کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 209
کے لیے خطاب کرتے ہیں۔ مردے کو مخاطب کرکے قبرستان میں سلام کہنا اسی قسم سے ہے کیونکہ قبرستان کے دیکھنے سے ان کی زندگی کے دن یاد آجاتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ سامنے ہیں۔ (ملخص از سماع موتیٰ، لشیخنا محدث روپڑی) (سماعِ موتی کے مسائل) کیا مردے سلام سنتے اور جواب دیتے ہیں؟ سوال۔جب مُردوں کو سلام کہا جائے تو کیا وہ سنتے ہیں، اگر سنتے ہیں تو جواب دیتے ہیں یا نہیں؟ (محمد اسماعیل عابد، موضع ڈاہر تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑا) (25ستمبر1992ء) جواب۔کسی صحیح حدیث میں بوقت ِ سلام ،اموات کے سماع اور پھر جواب دینے کی تصریح موجود نہیں ہے بلکہ قرآنِ مجید میں نفی مصرح ہے۔ (وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ ) (الفاطر:22) ”اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے۔‘‘ دوسری جگہ ہے: ( لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی ) (النمل:80) ”کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو(بات) نہیں سنا سکتے۔‘‘ نیز فرمایا: ( وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لاَّ یَسْتَجِیْبُ لَہٗٓ اِِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُوْنَ) (الاحقاف:5) ”اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے۔‘‘ اگر کوئی کہے دعائیہ کلمات میں صیغۂ تخاطب و نداء کا تقاضا ہے کہ مُردوں کو سماعت حاصل ہو، سو اس اشکال کا جواب یوں ہے کہ عربی زبان کا اسلوب ہے کہ مَا لَا یَعْقِلُ سے بسا اوقات معاملہ ذوی العقول جیسا کیا جاتا ہے جس طرح کہ ھلالی دعاء میں ہے: ( یَا ھلَالُ رَبِّیْ وَ رَبُّکَ اللّٰہُ ) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا: