کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 196
جواب۔1۔ زندگی میں کفن تیار کرنے کا جواز ہے۔’’صحیح بخاری‘‘میں حدیث سہیل اس امر کی واضح دلیل ہے۔ ملاحظہ ہو : (بَابُ مَنِ اسْتَعَدَّ الکَفَنَ فِی زَمَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یُنْکَرْ عَلَیْہِ) 2۔ بعض سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے عملِ ہذا ثابت نہیں۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (وَقَالَ ابن بَطَّالٍ فِیہِ جَوَازُ إِعْدَادِ الشَّیْئِ قَبْلَ وَقْتِ الْحَاجَۃِ إِلَیْہِ قَالَ وَقَدْ حَفَرَ جَمَاعَۃٌ مِنَ الصَّالِحِینَ قُبُورَہُمْ قَبْلَ الْمَوْتِ وَتَعَقَّبَہُ الزَّیْنُ ابْنُ الْمُنِیرِ بِأَنَّ ذَلِکَ لَمْ یَقَعْ مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ قَالَ وَلَوْ کَانَ مُسْتَحَبًّا لَکَثُرَ فِیہِمْ) [1] 3۔ قبر پر تختی نصب کرنا نا جائز ہے۔ اگر چہ کچھ فاصلہ پر ہو۔’’صحیح مسلم‘‘وغیرہ میں حدیث جابر رضی اللہ عنہ میں ہے: اَوْ یُکْتَبُ عَلَیْہِ یا اس پر کچھ لکھا جائے۔[2]امام محمد رحمۃ اللہ علیہ الآثار میں لکھتے ہیں: قبر پر لکھنا یا کتبہ لگانا مکروہ (حرام) ہے۔ کیا عذابِ قبر حق ہے؟ سوال۔ بعض ملحدین عذاب قبر کا انکار کرتے ہیں ا ور کہتے ہیں کہ قبر میں عذاب نہیں ہوگا۔ کیونکہ قبر میں انسان کا صرف جسم ہوگا۔ اس کی روح آسمان پر ہوگی اور یہ سارے عذاب قیامت کے دن دیے جائیں گے ۔ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ فرعون اور آل فرعون کو ہر روز صبح و شام عذاب دیا جاتا ہے جب کہ فرعون کی لاش تو مصر یا پھر فرانس میں رکھی ہے اور جو سیلاب میں بہہ گیا یا جو جل گیا، جیسے ہند وجلاتے ہیں یا کہ اس کے جسم کی راکھ بن گئی اس کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ جواب۔ ’’عذابِ قبر‘‘ کا مسئلہ کتاب و سنت کی بے شمار نصوص میں ثابت شدہ ہے۔ کسی مومن کے لائق نہیں کہ اس کا انکار کرے اور جہاں تک عذاب کی کیفیت کا تعلق ہے سو یہ برزخی معاملہ ہے جس کا دنیا میں فیصلہ کرنا انسانی استطاعت سے ماوراء ہے۔ اکٹھے دو سوئے ہوئے آدمی بحالت خواب مختلف مناظر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایک نعمتوں میں اور دوسرا عذاب میں، کسی کو دوسرے کی حالت کا شعور نہیں ہونے پاتا، حالانکہ وہ ایک ہی جگہ آرام فرما ہیں۔ سو برزخی معاملہ تو بہت وسیع ہے۔ جس کا ادراک انسانی دائرہ اختیار سے خارج ہے۔ بس اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ روح قبض ہونے کے ساتھ ہی حقیقت حال منکشف ہو جاتی ہے۔ یاد رہے نصوص شریعت میں کیڑے نکالنا الحاد کے علمبرداروں کا امتیازی نشان ہے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ محدثین کرام کی خدمات نصف النہار کی طرح عیاں ہیں کھرے اور کھوٹے سکے کا بازار علیحدہ علیحدہ جما دیا ہے۔ { فَمَنْ شَائَ فَلْیُؤْمِنْ وَ مَنْ شَائَ فَلْیَکْفُرْ} ہزاروں افراد کے حالاتِ زندگی کو معیارِ حق کی کسوٹی پر پرکھنا ان کا عظیم کارنامہ ہے جن کی مثال پیش کرنے سے تاریخ عالم قاصر ہے۔ اللہ رب العزت ان کی مساعیٔ جمیلہ قبول فرما کر اعلیٰ علیین میں مقام