کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 194
دیے جانے ہی کو شریعت نے قبر کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ نئے بدن میں روح ڈال کر اسے حساب کتاب ہوتا ہے اور راحت یا عذاب کا معاملہ ہوتا ہے جو شخص کہے کہ دنیاوی قبر میں راحت یا عذاب یا حساب کتاب ہوتا ہے یا روح کا بدن سے تعلق قائم کردیا جاتا ہے، وہ کافر اور ابدی جہنمی ہے۔ جواب۔ واضح ہو کہ قبر کا اطلاق اہل شرع کے ہاں صرف مٹی کے گڑھے پر نہیں بلکہ برزخی ساری زندگی کو محیط ہے۔چاہے کوئی سمندر کی نظر ہوجائے یا اس کی راکھ کو ہوا میں اڑا دیا جائے یا درندے وغیرہ کھا جائیں۔ ہر ایک کے ساتھ حسب اعمال برزخی زندگی میں معاملہ برحق ہے، جس طرح کہ کتاب و سنت کی بے شمار نصوص میں صراحت کی گئی ہے، مرنے والا قیامت تک کن کن مراحل سے گزرتا ہے اس کا تفصیلی علم اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں اور عذاب و ثواب کی جملہ کیفیات کا علم صرف اس کو ہے ۔ دنیا میں یہ انسان ہر روز مرتا ہے اور اس کی روح جسم سے مفارقت اختیار کرتی ہے بیدار ہونے پر دوبارہ روح کو جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے جس طرح کہ قرآن حکیم اور صحیح احادیث میں اس کا واضح ثبوت موجود ہے۔ جب دنیا میں روح جسم میں کئی دفعہ لوٹتی ہے اس سے کوئی شخص عقلی اور نقلی طورپر کئی زندگیاں ثابت نہیں کرتا تو مرنے کے بعد روح کے قبر کی طرف لوٹنے سے کئی زندگیاں کس طرح ثابت ہو جائیں گی۔ قرآن کا نزول نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو زندگیوں اور دو موتوں سے خوب واقف تھے ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے خلاف کوئی بات کریں۔ جملہ محدثین نے اپنی اپنی تالیفات کے ابواب و تراجم میں مسئلہ ہذا کو خوب نکھار کر پیش کیا ہے۔ اگر امام احمد اس مسئلے کے اثبات کی بنا پر ان کی نگاہ میں مجرم ٹھہرے ہیں تو یہی بات الفقہ الاکبر میں امام ابوحنیفہ سے بھی ثابت ہے ، اس سے صرف نظر کیوں ہو رہی ہے۔ ہمارے نزدیک دونوں اماموں کا عقیدہ عین شریعت کے مطابق ہے۔ یہ عقیدہ صحیح حدیث براء بن عازب میں بہ صراحت موجود ہے۔ مسند احمد(4/287، 295، 266) ابوداؤد(4753) مزید ملاحظہ ہو، بخاری(1338)(1374) مسلم(287) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ، مہذب شرح العقیدہ الطحاویۃ(ص:315۔321) کیا قبر میں عذاب جسم کو ہوتا ہے ؟حالانکہ روح عالم برزخ میں (علیین یا سجّین میں) ہوتی ہے؟ سوال۔عذابِ قبر کی کیفیت کیسی ہوتی ہے حالانکہ روح تو علیین یا سجّین میں ہوتی ہے اور جسم قبر میں ہوتا ہے کیا عذابِ قبر ایک نئے بزرخی جسم کے ساتھ آسمان پر نہیں ہوتا؟ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات کچھ لوگوں کو عذاب میں مبتلا دیکھا تھا۔ حالانکہ قیامت سے پہلے تو عذاب نہیں ہوسکتا اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ غزوۂ بدر کے شہیدوں کی روحوں کو سبز رنگ کے پرندوں کے جسم میں منتقل کردیا گیا ہے اور وہ جنت میں اڑتے پھرتے ہیں۔ جواب تفصیل سے دیجیے۔ (خالد مصطفی ایس ایس ٹی گورنمنٹ تعلیم ہائی سکول حاصلانوالہ تحصیل پھالیہ ضلع گجرات)(4۔ستمبر1992) جواب۔ قبر میں جزاء سزا برزخی معاملہ برحق ہے لیکن انسانی عقول حقیقت کے ادراک سے قاصر ہیں اس پر ایمان لانا [1] ۔ صحیح سنن ابی داؤد: باب فضل یوم الجمعۃولیلۃ الجمعۃ (۴/ ۲۱۴)، رقم الحدیث: 1048 [2] ۔ فتاوی الحافظ ابن الحجر العسقلانی : 4/40