کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 193
نیز ایک صحیح حدیث میں ہے :(اِنْ اَمْسَکْتَ نَفْسِیْ فَارْحَمْہَا وَ اِنْ اَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا)[1] (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، شرح العقیدۃ الطحاویۃ،ص:379، اور ص:391۔392، فتح الباری، ج:4، ص:243، حاشیہ شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ ۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کا آپ کے جسم سے ادنیٰ سا تعلق بھی نہیں ہے؟ سوال۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کا آپ کے بدن سے ادنیٰ سا تعلق بھی باقی نہیں رہ گیا۔ بدن مبارک سے کسی قسم کا دنیاوی یا برزخی تعلق ماننے والا کافر ہے۔ آپ کی روح مقام ’’الوسیلہ‘‘ یعنی جنت میں ہے۔ جواب۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برزخی زندگی نصوص شریعت سے ثابت ہے چنانچہ ’’مسند امام احمد‘‘ اور ’’سنن ابی داؤد‘‘ وغیرہ میں بسند حسن حدیث ہے: (مَا مِنْ اَحَدٌ یُسَلِّمُ عَلَیَّ اِلَّا رَدَّ اللّٰہُ عَلَیَّ رُوْحِیْ حَتّٰی اَرُدَّ عَلَیہِ السَّلَام)[2] ”جب کوئی مجھ پر سلام کہتا ہے تو اللہ مجھ پر میری روح کو لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں سلام کا جواب دیتا ہوں۔‘‘ واضح شرعی دلائل کا انکار الحاد اور زندقہ ہے۔ ( اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَۃَ بِالْہُدٰی فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُہُمْ وَ مَا کَانُوْا مُہْتَدِیْنَ)(البقرۃ : 16) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مرعاۃ المفاتیح(1/684 تا 690) الصارم المنکی، اقتضاء الصراط المستقیم، صیانۃ الانسان۔ کیا عذابِ قبر جسم اور روح دونوں کو ہوتاہے ؟ سوال۔عذابِ قبر روح کو یا میت کو یا دونوں کو ہوتا ہے ؟ (سائل) (18 جون 1999ء) جواب۔ نصوص سے ظاہر یہ ہے کہ عذابِ قبر کا تعلق جسم اور روح دونوں سے ہے۔ کیا مرنے کے بعد برزخ میں روح کو ایک نیا بدن ملتا ہے ؟ سوال۔ قرآن کے مطابق ہر مرنے والے کو قبر ملتی ہے جب کہ بعض لوگ جل جاتے ہیں، بعض کو درندے کھالیتے ہیں، بظاہر انھیں کوئی قبر نہیں ملتی۔ دراصل برزخ نامی جگہ پر ہر مرنے والے کی روح کو ایک نیا بدن دیا جاتا ہے۔ اس نیا بدن