کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 189
اعمال کا مرتکب ہوتا ہے، جزا وسزا کا تعلق بھی انھی سے ہے، مرنے کے بعد اور بروزِ قیامت یہی شہادتی بنیں گے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ اعمال خیر وشر دنیا کے بدن سے ہوں، جزا وسزا دوسرے بدن کو ملے۔ یہ تو سراسر بے انصافی ہے جس کا ذات باری تعالیٰ سے تصور کرنا بھی محال ہے، اور جو مناظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت خواب دیکھے ان کا تعلق بھی اسی بدن سے ہے۔ ’برزخی جسم‘ کی اصطلاح خود ساختہ ہے جس کا شرع میں کوئی اصل نہیں، صحابہ وتابعین، تبع تابعین اور بعد کے سلف صالحین میں سے کسی نے بھی یہ بات نہیں کہی۔ پھر یہ کہنا کہ ’’دنیاوی بدن کا موت کے بعد روح سے کوئی تعلق باقی نہیں رہتا اور یہ دنیاوی بدن تباہ ہوجاتا ہے‘‘ غلط دعویٰ ہے۔ ’’صحیح بخاری‘‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (إِذَا وُضِعَتِ الجِنَازَۃُ، فَاحْتَمَلَہَا الرِّجَالُ عَلَی أَعْنَاقِہِمْ، فَإِنْ کَانَتْ صَالِحَۃً قَالَتْ: قَدِّمُونِی، وَإِنْ کَانَتْ غَیْرَ صَالِحَۃٍ قَالَتْ لِأَہْلِہَا: یَا وَیْلَہَا أَیْنَ یَذْہَبُونَ بِہَا؟، یَسْمَعُ صَوْتَہَا کُلُّ شَیْء ٍ إِلَّا الإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَ الإِنْسَانُ لَصَعِقَ ) [1] ”جب میت کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گردنوں پر اٹھا لیتے ہیں، اگر وہ نیک ہے تو کہتا ہے مجھے آگے لے چلو اور اگر وہ برا ہے تو پکارتا ہے اے شامت مجھے کدھر لے چلے ہو؟! اس آواز کو انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے۔ اور اگر انسان اس کو سن لے تو بیہوش ہو کر گر پڑے۔‘‘ اس حدیث پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بایں الفاظ تبویب قائم کی ہے: ( بَابُ قَوْلِ المَیِّتِ وَہُوَ عَلَی الجِنَازَۃِ : قَدِّمُونِی) حدیث ہذا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ موت کے بعد بھی بدن اور روح کا رابطہ قائم رہتا ہے اور بدن کا بوسیدہ ہونا صرف ہماری رؤیت کے اعتبار سے ہے ورنہ خالق ومالک کے لیے دونوں حالتیں برابر ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ) (الملک: 14) ”بھلا جس نے پیدا کیا وہ بے خبر ہے وہ تو پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔‘‘ ان لوگوں کا یہ زعم کہ دنیاوی بدن میں دوبارہ صحیح ہونے کی خاصیت نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس ہستی نے پہلے اس کو پیدا کیا وہ اسی کو دوبارہ لوٹانے پر بھی قادر ہے۔ { اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ } کے یہی معنی ہیں۔ اللہ رب العزت نے اس حقیقت کی وضاحت یوں فرمائی ہے: (وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَّ نَسِیَ خَلْقَہٗ ط قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ ہِیَ رَمِیْمٌ o قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَہَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط وَ ہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ) (یٰس: 78،79) ”اور اس نے ہمارے لیے مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے