کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 185
جواب۔ میت پر چلا کر رونا پیٹنا، گریبان پھاڑنا اور بین کرنا، سب امور حرام ہیں۔ ’’صحیح بخاری‘‘ اور ’’صحیح مسلم‘‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ’’ وہ شخص ہم میں سے نہیں ( یعنی ہمارے طریقے پر نہیں) جو اپنے رخسار پیٹے ۔ گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی پکار پکارے یعنی نوحہ اور واویلا کرے۔ [1] اور ’’سنن ابی داؤد‘‘ میں حدیث ہے: ”لعنت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی عورت کو اور نوحہ سننے والی عورت کو ۔‘‘ [2] نیز صحیح ’’بخاری‘‘ اور ’’صحیح مسلم‘‘ میں ہے: ”میں بیزار ہوں اس سے جو ( موت کی مصیبت میں) سر کے بال منڈائے اور چلّا کر روئے اور اپنے کپڑے پھاڑے ۔‘‘[3] اور ایک ’’حدیث قدسی‘‘ میں ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ میرے(اس ) مومن بندے کے لیے بہشت ہے جس کے پیارے کو میں اہل دنیا سے قبض کرتا ہوں اوروہ (اس کی موت پر ) صبر کرے۔[4] (عالم ِ برزخ اور عذابِ قبر کے متعلقہ مسائل) عالم برزخ کے کیا معنی ہیں؟ سوال۔عالم برزخ کے کیا معنی ہیں؟ اور کون سے مقام کو عالم ِ برزخ کہا جاتا ہے ؟ کیا نیک اور بد لوگوں کی روح عالم برزخ میں ہی جاتی ہے؟(قاری مشتاق احمد، مدرس جامع تفہیم القرآن والحدیث ایبٹ آباد ہزارہ) (29 اگست 1997) جواب۔ دو چیزوں کے درمیان جو چیز اٹکاؤ کی طرح ہو اس کو برزخ کہتے ہیں۔ انسان کا قبر میں رہنے کا زمانہ دنیا اور عقبیٰ کے مابین میں ایک اٹکاؤ کا زمانہ ہے۔ اس لیے اس کو برزخ کہا جاتا ہے۔ (تفسیر احسن التفاسیر:4/323) نیک و بد قیامت تک اسی کے اندر رہیں گے۔ [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَی صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ،رقم: 2697