کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 182
”کہ مجھے اگر قبر نبوی کے پاس دفن ہونے کی اجازت نہ ملی تو پھر مسلمانوں کے قبرستان میں مجھے دفن کردینا۔‘‘ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی’’صحیح‘‘ میں ان الفاظ سے باب قائم کیا ہے: (بَابٌ : ہَلْ تُنْبَشُ قُبُورُ مُشْرِکِی الجَاہِلِیَّۃِ، وَیُتَّخَذُ مَکَانُہَا مَسَاجِدَ) ”یعنی کیا مشرکین ِ جاہلیت کی قبریں اکھاڑ کر ان کی جگہ مساجد تعمیر کی جا سکتی ہیں؟ ‘‘ پھر اس کے تحت مسجد نبوی کی تعمیر کا قصہ لائے ہیں، جس کا آخری جملہ یہ ہے : ( فَقَالَ أَنَسٌ : فَکَانَ فِیہِ مَا أَقُولُ لَکُمْ قُبُورُ المُشْرِکِینَ، وَفِیہِ خَرِبٌ وَفِیہِ نَخْلٌ، فَأَمَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ المُشْرِکِینَ، فَنُبِشَتْ، ثُمَّ بِالخَرِبِ فَسُوِّیَتْ ) [1] اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ کفار و مشرکین کی قبریں قابلِ احترام نہیں بلکہ ضرورت کی بناء پر ان کو اکھاڑ کر زمین کے برابرکرنا جائز ہے ۔ موجودہ صورت میں اصل یہ ہے کہ کافر میت کو کسی دوسری جگہ منتقل کردیا جائے۔ اگر یہ ناممکن نظر آئے یا فتنے کا ڈر ہو تو کم از کم قبر کے امتیازی نشان کو مٹا کر زمین کے برابر کردیا جائے۔ صرف قبرستان کے ایک طرف لکیر کھینچ دینا کافی نہیں ہے کیونکہ ایسا حادثہ آئندہ بھی پیش آسکتا ہے جس کا مستقل سد باب ہونا چاہیے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ گاؤں والے ہمت کرکے غیر مسلم مردوں کے لیے کوئی جگہ مخصوص کردیں تاکہ مستقبل میں مسلمانوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ بھی واضح ہو کہ شرعی احکام و مسائل کی واضح نشان دہی کے بعد کسی مسلمان کے لیے جائز اور لائق نہیں کہ ٹال مٹول سے کام لے۔ آج لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے کسی جگہ مسلم غیر مسلم قبرستان اکٹھے ہوں تو فوراً ان کو جدا کردینا چاہیے۔ حضرت مثنی والا قصہ محض ایک تاریخی واقعہ ہے ۔ واضح احادیث اور احکام کے مقابلے میں اس پر اعتماد کرنا مشکل امر ہے کیونکہ محض جان قربان کرنا گناہوں کا کفارہ نہیں بنتا۔ جب تک شہادتین(کلمہ توحید و رسالت) کا اقرار نہ کیا جائے۔ اہل کتاب سے امتیازی سلوک صرف ان امور میں ہے جہاں واضح شرعی احکام موجود ہوں جب کہ موجودہ مسئلہ ان میں شامل نہیں۔ تدفین کے بعد کتابِ تعزیت کا رکھنا ،اور سوگواران سے معاونت سوال۔ہمارے علاقہ میں بعض رواج ایسے ہیں جو کہ ہندوانہ رسومات کے مشابہ ہوتے ہیں کہ مرنے والے کے لواحقین [1] ۔ مسند احمد(2/204)رقم:6950