کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 170
اللہ کے سپرد کریں۔ اس کے ہاں نیکی و تقویٰ کی بنیاد پر بہت ہی آسانی و کشادگی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی قبر منور فرمائے۔آمین۔ مٹی اور میت کے درمیان کوئی شئے حائل ہونی چاہئے۔ اسی طرح مٹی ڈالنا احترامِ میت کے منافی ہے۔ عمرو بن حزم فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک قبر پر ٹیک لگائے دیکھا، فرمایا:’’ اس قبر والے کو ایذا نہ دو۔‘‘[1] نیز فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کی ہڈی توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوا احترامِ میت کے منافی کوئی فعل نہیں ہونا چاہیے۔ احادیث میں وارد لفظ شق (سامی) لحد( بغلی قبر) کا تقاضا بھی یہی ہے کہ درمیان میں آڑ ہو۔ عوارضات کی بناء پر بعض میتوں کی نقل مکانی کے واقعات جو احادیث میں موجود ہیں اسی امر کے مؤید ہیں۔ تدفین اور بعض دیگر مسائل مسجد کے اردگر جائے مدفن بنانا سوال۔ہمارے علاقے میں ایک عام دستور یہ ہے کہ جو آدمی مسجد کے لیے زمین دیتا ہے تو مسجد کی تعمیر کے بعد اس سے ملحق زمین کو اپنے خاندان کے لیے مدفن کے طور پر استعمال کرنے لگتا ہے۔ اس لیے اکثر مسجدیں ہمارے یہاں ایسی ہیں جن کے اردگرد قبریں ہیں۔ یہاں تک کہ قبلے کی سمت میں بھی قبریں ہیں تو قبروں کے بیچ ان مسجدوں میں نماز پڑھناکیسا ہے؟ (حاجی عبدالرحمن السلفی چترال) (15 جنوری 1999) جواب۔ موجودہ شکل کو تبدیل کرنا چاہیے۔ جائے مدفن قبرستان ہے نہ کہ مسجد کا قرب و جوار، ایسی مسجد میں نماز پڑھنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ ٭ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر بیٹھنے اوران کی طرف نماز پڑھنے سے منع فرمایاہے۔[2] ٭ اور قبروں پر مسجدیں بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔[3] اور صحیحین میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ یہود پر لعنت کرے۔ انھوں نے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ [4] [1] ۔ صحیح مسلم(7/44 ،بَابُ مَا یُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَائِ لِأَہْلِہَا،رقم: 974، سنن النسائی (4/92،93)، بَابُ الْأَمْرُ بِالِاسْتِغْفَارِ لِلْمُؤْمِنِینَ، رقم: 2037 [2] ۔ صحیح البخاری،کَیْفَ کَانَ بَدْئُ الوَحْیِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟،رقم:1