کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 167
(فَلَمَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِہٖ اِسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ رَافِعًا یَدَیْہِ اَخْرَجَہُ عَوَانَۃُ فِی صَحِیْحِہٖ)[1] ”یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ ذی نجادین کے دفن سے فارغ ہوئے تو قبلہ رُخ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔‘‘ قبرستان میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سوال۔قبرستان میں جا کر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا کیسا ہے؟ (السائل ثناء اللہ محمد سموں منگیریہ ضلع بدین سندھ) (11ستمبر1992) جواب۔ قبرستان میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا جائز ہے ۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: ( حَتَّی جَائَ الْبَقِیعَ فَقَامَ، فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ) [2] مزاروں پر اور فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا سوال۔ مزاروں پر اور فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا سلسلہ کب شروع ہوا؟ (سائل) (27 مئی 2011ء) جواب۔ قبرستان میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سنت سے ثابت ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: (فَوَقَفَ فِیْ اَدْنَی الْبَقِیْعِ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ) [3] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقیع کے پاس کھڑے ہوگئے پھر آپ نے ہاتھ اٹھائے (اور دعا کی) پھر واپس چلے آئے۔‘‘ اور’’صحیح مسلم‘‘و’’مسند احمد‘‘ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسرے قصہ میں مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اہل بقیع کے پاس تشریف لے گئے اور وہاں تین مرتبہ ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنھما کی روایت میں ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبداللہ ذی النجادین کی قبر پر دیکھا: ( فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِہِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ رَافِعًا یَدَیْہِ) [4] ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دفن سے فارغ ہوئے تو قبلہ رخ ہو کر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔‘‘ [1] ۔ اقتضاء الصراط المستقیم،ص:175 [2] ۔ صحیح البخاری،بَابُ الِاسْتِسْقَائِ فِی المَسْجِدِ الجَامِعِ،رقم:1013 [3] ۔ فتح الباری11/143