کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 160
(اِنَّ الشَّیْطَانَ قَالَ وَ عِزَّتِکَ یَا رَبِّ لَا اَبْرَحُ اُغْوِی عِبَادَکَ مَا دَامَتْ اَرْوَاحُہُمْ فِیْ اَجْسَادِہِمْ فََقَالَ الرَّبُ عَزَّوجَلَّ وَ عِزَّتِیْ وَ جَلَالِیْ وَ اِرْتِفَاعِ مَکانِیْ لَا اَزَالُ اَغْفِرُ لَہُم مَا استَغْفُرُوْنِی) [1] ”تحقیق شیطان نے پروردگار سے عرض کیا اے میرے پروردگار تیری عزت کی قسم میں تیرے بندوں کو ہمیشہ گمراہ کرتا رہوں گا جب تک کہ ان کے ارواح ان کے بدنوں میں ہوں گے۔ پس پروردگار نے فرمایا مجھے اپنی بزرگی و عزت اور بلند مرتبہ کی قسم ہے کہ میں ان کو ہمیشہ بخشتار ہوں گا جب تک کہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے۔‘‘ لہٰذا بعد از موت شیطانی تسلّط یا بذریعہ اذان اس کو اس موقعہ پر بھگانے کا نظریہ بالکل فضول اور بے کار ہے۔ تارِ عنکبوت سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ {وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَائُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم} (البقرۃ: 213) واضح ہو کہ اہل بدعت کا ہمیشہ سے یہ شیوہ ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ نظریات و عقائد کی ترویج کے لیے کتاب و سنت کی قطع و برید میں لگے رہتے ہیں۔ شاید کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل جائے۔ دراصل فعلِ ہذا دین و دنیا کے اعتبار سے انتہائی خطرناک کھیل ہے۔ {فَمَا رَبِحَت تِجَارَتُہُمْ وَ مَا کَانُوْا مُھْتَدِیْن} (البقرۃ:16) اللہ رب العزت جملہ مسلمانوں کو رجوع الی الحق کی توفیق بخشے۔ آمین قبر پر قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا سوال۔کیا دعا قبر کی بجائے قبلہ کی طرف منہ کرکے کرنی چاہیے؟ جواب۔ اصل یہی ہے کہ دعا کے وقت قبروں کی طرف متوجہ نہ ہوا جائے، بلکہ قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کی جائے۔ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کی طرف متوجہ ہو کر نماز سے منع فرمایا ہے اور دعا ہی نماز کا لب لباب ہے۔ لہٰذا دعا بھی قبلہ رُخ ہو کر کی جائے۔ اس بناء پر علماء محققین کا یہ فیصلہ ہے کہ دعا کے وقت بھی اس جانب متوجہ ہونا مستحب ہے جس جانب نماز ادا کی جاتی ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ! اقتضاء الصراط المستقیم لابن تیمیۃ۔ بعد از جنازہ اور قبر پر دعا کا شرعی حکم( ایک حنفی فتوے پر تعاقب) سوال۔ مکرمی و مخدومی مفتی صاحب۔ میں نے گزشتہ دنوں بصیر پور کے مفتی محمد محب اللہ نوری صاحب سے ’’دعا بعد نمازِ جنازہ‘‘ کے جواز اور عدمِ جواز کے بارے میں استفسار کیا تھا تو انھوں نے مجھے جو جواب ارسال فرمایا، وہ میںآپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں ۔ آپ ازراہِ کرم کتاب و سنت کی روشنی میں اس فتوے کا جائزہ لیں اور [1] ۔ رواہ احمد : 3/360 مشکوٰۃ باب اثبات القبر فصل ثالث ،ص: 26 [2] ۔ صحیح البخاری،بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَی صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ،رقم:2697