کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 158
المرعاۃ(1/224) میں ہے: ”اور یہ قبوری لوگ جو قبروں پر پھول ڈالتے ہیں اور درخت لگاتے ہیں اور غلاف چڑھاتے ہیں پھر ان پر خوشبو بکھیرتے ہیں اور ان پر چراغ جلاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بدعت اور گمراہی کے کام ہیں۔‘‘ لہٰذا موصوف کو میرا مشورہ ہے کہ اپنے غلط موقف پر دلائل دینے اور اس کی توجیہ و تاویل کرنے کی بجائے اس سے رجوع کریں۔ اسی میں آپ کی عظمت و شان ہے۔ ان شاء اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مشہور مقولہ ہے: ( مَرَاجَعَۃُ الْحَقِّ خَیْرٌ مِّنَ التَّمَادِی فِی) [1] ”باطل پر اصرار سے بہتر ہے کہ انسان حق کی طرف رجوع کرے۔‘‘ اللہ رب العزت سب کو اخلاص کی توفیق بخشے۔آمین نذرانوں کی رقوم اور محکمہ اوقاف کے ادار وں سے استفادہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ سوال۔اولیائے کرام کے مزاروں پر چڑھائے جانے والے نذرانے محکمہ اوقاف میں جمع ہوتے ہیں۔ محکمہ اوقاف کے کسی فلاحی شعبے مثلاً ہسپتال وغیرہ سے استفادہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (سائل: محمد علی شاہ، لاہور) 31مئی 2002) جواب۔ جس شعبے کے بارے میں یقین ہو کہ یہاں خالصتاً مزاروں کے نذرانے صرف ہورہے ہیں، وہاں سے استفادے سے بچنا چاہیے بصورتِ دیگر کراہت کے ساتھ جواز ہے۔ قبر پر پودے لگائے جائے سکتے ہیں یا نہیں؟ سوال۔ قبر پر پودے لگائے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب۔ قبر پر پودے لگانے کا واضح کوئی ثبوت موجود نہیں۔ قبر پر اذان دینا بدعت ہے؟ اور کیا بعد از موت بندے پر شیطانی تسلط کا ڈر نہیں رہتا؟ سوال۔ میت کو قبر میں دفن کرنے کے بعد قبر پر اذان دینا کیسا ہے؟ٹوبہ ٹیک سنگھ میں قبر پر اذان دی گئی جو کہ باعث ِ نزاع بنی ہوئی ہے اور قبرپر اذان دینے کے جواز میں مشکوٰۃ المصابیح کی یہ حدیث پیش کی جاتی ہے: حدیث: (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ الْأَنْصَارِیِّ، قَالَ:خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا إِلَی سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ حِینَ تُوُفِّیَ، قَالَ:فَلَمَّا صَلَّی عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ فِی قَبْرِہِ وَسُوِّیَ عَلَیْہِ، سَبَّحَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَسَبَّحْنَا طَوِیلًا، ثُمَّ کَبَّرَ فَکَبَّرْنَا، فَقِیلَ:یَا رَسُولَ اللَّہِ، لِمَ سَبَّحْتَ؟ ثُمَّ کَبَّرْتَ؟ قَالَ:لَقَدْ تَضَایَقَ عَلَی ہَذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُہُ حَتَّی [1] ۔ سنن ابی داؤد،بَابٌ فِی زِیَارَۃِ النِّسَاء ِ الْقُبُورَ،رقم:3236، سنن الترمذی،بَابُ مَا جَائَ فِی کَرَاہِیَۃِ أَنْ یَتَّخِذَ عَلَی القَبْرِ مَسْجِدًا،رقم: 320 ،سنن النسائی،رقم:2043