کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 154
قبر پر نام و سنہ وغیرہ کا کتبہ آویزاں کرنے کا حکم؟ سوال۔ میت کا نام، ولدیت، اور تاریخ وفات وغیرہ لکھ کر کتبہ کی صورت میں قبر پر آویزاں کرنا سنت سے ثابت ہے یا نہیں؟ (سائل) (13 جون 2003) جواب۔ قبر پر نام، ولدیت اور تاریخ وغیرہ کاکتبہ لگانا درست نہیں۔’’جامع ترمذی‘‘ وغیرہ میں حدیث ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ قبر کو چوناگچ کیا جائے، اس پر بیٹھا جائے۔ اس پر عمارت بنائی جائے۔ یا اس پر کچھ لکھا جائے ۔‘‘ امام محمد ’’الآثار‘‘ میں لکھتے ہیں کہ قبر پر لکھنا یا کتبہ لگانا مکروہ( حرام ہے) ہے ، ہاں البتہ قبر کو امتیازی شکل دینے کے لیے اس پر پتھر وغیرہ رکھا جا سکتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون کی قبر پر پتھر رکھتے ہوئے فرمایا: (أَتَعَلَّمُ بِہَا قَبْرَ أَخِی، وَأَدْفِنُ إِلَیْہِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَہْلِی) [1] ”اس سے میں اپنے بھائی کی قبر کو پہچان لوں گا اور ہمارے اہل سے جو فوت ہو گا میں اسے اس کے قریب دفن کروں گا۔‘‘ قبروں پر پھول چڑھانے اور چراغ جلانے کا کیا حکم سوال۔قبر پر پھولوں کی چادر چڑھانا یا دیے جلانا کیسا ہے؟ (سائل:قاری محمد یٰسین یزدانی۔ عارف والا) (9جولائی 1999) جواب۔ قبروں پر پھولوں کی چادر چڑھانا کتاب و سنت سے ثابت نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ( مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ ) [2] ” یعنی جو دین میں اضافہ کرے وہ مردود ہے۔‘‘ اہل مغرب کی تقلید میں یہ قبیح رسم مسلمانوں میں داخل ہوئی۔ (اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہَا) اس کا مرتکب دین سے بے بہرہ جاہل اور غبی ہے اور قبروں پر دیے جلانے والا شریعت کی نگاہ میں لعنت کا مستحق ہے۔ ایک حدیث میں ہے۔ قبرو ں پر چراغ جلانے والے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے۔ [3] اس حدیث کی تشریح میں صاحب’’المرعاۃ‘‘ فرماتے ہیں: [1] ۔ سنن ابی داؤد،بَابٌ فِی الْبِنَاء ِ عَلَی الْقَبْرِ،رقم:3225،3226 [2] ۔ سنن ابی داؤد،بَابٌ فِی جَمْعِ الْمَوْتَی فِی قَبْرٍ وَالْقَبْرُ یُعَلَّمُ،رقم:3206 [3] ۔ سنن النسائی،بَابُ الزِّیَادَۃُ عَلَی الْقَبْرِ ،رقم:2027 [4] ۔ سنن ابی داؤد،بَابٌ فِی جَمْعِ الْمَوْتَی فِی قَبْرٍ وَالْقَبْرُ یُعَلَّمُ،رقم:3206 [5] ۔ کتاب الآثار، باب تسنیم القبور وتخصیصہا: 256