کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 140
سَکَنٌ لَّہُمْ} (التوبۃ: 103) ’’یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صدقہ دینے والوں پر دعاء خیر کی تلقین کی گئی ہے اس آیت میں وارد (صَلِّ عَلَیْہِمْ)کے الفاظ سے کسی کے نزدیک بھی نمازِ جنازہ مراد نہیں لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ ’’صلاۃ علی‘‘ کی اصطلاح نمازِ جنازہ کے لیے مخصوص ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ حدیث میں جس نماز یا دعاء کا ذکر ہے وہ واقعہ متفقہ طور پر جنگِ احد کے تقریباً آٹھ سال بعد کا ہے ، اس لیے وہاں مراد نمازِ جنازہ نہیں بلکہ وہی الفاظ دعا ہیں جو عموماً نمازِ جنازہ میں پڑھے جاتے ہیں، اس کی تائید حدیث مذکورہ میں وارد ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے کہ اس دعاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کا رُخ کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ واقعہ مسجد نبوی کا ہے نہ کہ مقامِ احد پر جا کر نماز پڑھنے کا۔ (3)۔ ان صحیح احادیث کے علاوہ بعض دیگر روایات حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بہتر(72) مرتبہ نماز جنازہ کا پڑھنے کے بارے میں ذکر کی جاتی ہیں جن کے ساتھ ان روایات کو ملایا جائے جن میں شہداء احد کی نمازِ جنازہ میں نو نو یا دس دس اکٹھے شہداء کی نمازِ جنازہ کا ذکر ہے تو بات یہی کھلتی ہے کہ حضرت حمزہ کی بہتر(72) مرتبہ نمازِ جنازہ والی روایت درست نہیں کیونکہ کل شہداء احد ہی بہتر (72) تھے حالانکہ اس طرح لازم آئے گا کہ شہداء احد سینکڑوں کی تعداد میں ہوں۔ نیز جو لوگ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی صحیح بخاری والی روایت سے آٹھ سال بعد نمازِ جنازہ ثابت کرتے ہیں ، ان کو غور کرنا چاہیے کہ شہدائے احد کی معرکہ سے متصل نمازِ جنازہ والی روایات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اہل مدینہ، امام شافعی، اور بیہقی نے ایسے تمام معارضات نقل کرکے شہید کی نمازِ جنازہ کی بجائے دعائے خیر کا مسلک اختیار کیا ہے اور وہی راجح ہے۔ اہل حدیث کو تمام احادیث جمع کرکے صحیح مسلک اختیار کرنا چاہیے۔ احادیث کا ٹکراؤ پیدا کرکے اپنا مطلب نکالنا درست نہیں۔ سوال نمبر(2) کا جواب : آج کل بعض جماعتیں اپنے مخصوص گروہی مقاصد کے لیے کشمیر وغیرہ میں شہید ہونے والوں کی غائبانہ نمازِ جنازہ کے لیے وہ تمام اشتہاری وسائل اختیار کرتی ہیں جو سیاستدان انتخابی سیاست میں استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ کسی کی موت پر یہ انداز اعلان اس جاہلیت کی مذموم نعی(موت کا اشتہار دینا) میں شامل ہے جس کی ممانعت احادیث میں صراحتاً آئی ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اسی احتیاط کے پیش نظر موت کی اطلاع اقرباء تک کو بھی نہ دیتے تھے کہ کہیں نعی نہ بن جائے۔ کسی کی موت کی خبر کی حد تک اس کے رشتے داروں اور قریبی احباب کو اطلاع دینے کا جواز تو موجود ہے لیکن اس طرح کی اشتہار بازی شریعت میں سخت ناپسندیدہ ہے۔ غائبانہ نمازِ جنازہ کے بارے میں اگرچہ دلائل کا رجحان جواز کی طرف ہی ہے لیکن اگر نعی کی مذکورہ بالا صورت دیکھی جائے تو ایسے غائبانہ نماز جنازہ کی بھی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے ۔ شریعت کے مسائل میں مقاصد شریعت کی بڑی اہمیت ہے۔ فتویٰ ان کی روشنی میں ہی دیا جانا چاہیے۔ سوال نمبر(3) کا جواب: مرحوم مولانا خالد سیف شہید کی شہادت قابلِ رشک تھی، ان کی میت بھی جامعہ رحمانیہ [1] ۔ مرعاۃ،ج:2ص:486 [2] ۔ صحیح البخاری، رقم:1344، فتح الباری، ج:3 ص:209