کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 133
”یعنی اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹے سہیل اور اس کے بھائی کا جنازہ مسجد میں پڑھا تھا۔‘‘ زیر حدیث امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ( وَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ دَلِیلٌ لِلشَّافِعِیِّ وَالْأَکْثَرِینَ فِی جَوَازِ الصَّلَاۃِ عَلَی الْمَیِّتِ فِی الْمَسْجِدِ وممن قال بہ أحمد واسحاق) یعنی ’’ اس حدیث میں شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور اکثر اہل علم کی دلیل ہے کہ مسجد میں جنازہ پڑھنا جائز ہے اور جولوگ اس بات کے قائل ہیں ان میں سے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور اسحاق رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں۔‘‘ اسی طرح حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ابن ابی شیبہ سے بیان فرمایا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں پڑھا تھا اور صہیب رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں پڑھا اور ’’ابن ابی شیبہ‘‘ کی روایت میں یہ زیادتی بھی موجود ہے : ( وَوُضِعَتِ الْجِنَازَۃُ فِی الْمَسْجِدِ تُجَاہَ الْمِنْبَرِ ) یعنی ’’جنازہ منبر کے سامنے مسجد میں رکھا گیا۔‘‘ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ( وَہَذَا یَقْتَضِی الْإِجْمَاع علی جَوَاز ذَلِک )[1] ”یعنی امر ہٰذا اس بات کا متقاضی ہے کہ مسجد میں جنازہ کے جواز پر صحابہ کا اجماع تھا۔‘‘ اور ابن قدامہ نے کہا: ( کَانَ ھٰذَا بِمَحْضَرٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ فَلَمْ یُنْکَر فَکَانَ اِجْمَاعًا ) اور جو لوگ عدمِ جواز کے قائل ہیں ان میں سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں۔ ان کا استدلال ’’سنن ابی داؤد‘‘ کی ایک روایت سے ہے: (مَنْ صَلَّی عَلَی جَنَازَۃٍ فِی الْمَسْجِد، ِ فَلَا شَیْء َ عَلَیْہِ) (لَہُ)[2] ”یعنی جس نے مسجد میں جنازہ پڑھا اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں۔‘‘ اہل علم نے اس حدیث کے مختلف جوابات دیے ہیں۔ 1۔یہ حدیث ضعیف ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ( ھٰذَا حَدِیْثٌ ضَعِیْفٌ تَفَرَّدَ بِہٖ صَالِحٌ مَوْلٰی التَّوأَمَۃ) [1] ۔ صحیح مسلم، بَابُ الصَّلَاۃِ عَلَی الْجَنَازَۃِ فِی الْمَسْجِدِ ،رقم:973 [2] ۔ صحیح مسلم،بَابُ الصَّلَاۃِ عَلَی الْجَنَازَۃِ فِی الْمَسْجِدِ ،رقم:973