کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 130
تجاوز کرنا ہے۔ قرآن مجید میں ہے: (فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَہُمْ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (البقرۃ: 182) ”اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں بے شک اللہ بخشنے والا (اور) رحم والا ہے۔‘‘ لہٰذ جملہ ورثاء اور عام مسلمان بلاتردّد مرحوم کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے حقدار ہیں۔ خوشی میں شریک نہ کرنے والے کی غمی میں شرکت سوال۔ ایک دین دار شخص کو اُس کے رشتہ دار اپنی خوشیوں کی تقریبات میں اس لیے مدعو نہیں کرتے کہ اُن کی لغویات میں رکاوٹ ہو گی۔ کیا اس دین دار شخص کو اپنے اُن رشتہ داروں کی غمیوں میں شامل ہونا چاہیے یا احتجاجاً نہ جائے کہ تمہیں خوشی میں اللہ یاد نہیں تھا اب غم میں کیوں فریاد کرتے ہو؟ (عبد الرزاق اختر، محمدی چوک، حبیب کالونی گلی نمبر 12، رحیم یار خان) (مارچ 2005 ء) جواب۔ رشتہ داروں کی غمیوں میں شرکت کر کے ان کو وعظ ونصیحت کرنی چاہیے، اس طرح اصلاح کی صورت ہو سکتی ہے۔ وَ مَاذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْز۔ مرزائی کی نمازِ جنازہ اور مسلم قبرستان میں دفن کا مسئلہ سوال۔ ایک آدمی مرزائی مر گیا اور اسی حالت میں فوت ہوگیا۔ بعض مسلمانوں نے اس کے جنازہ میں شرکت بھی کی اور اسے دفن بھی مسلمانوں کے قبرستان میں ہی کیا گیا۔ اس کے جنازہ میں شریک ہونے والے مسلمانوں کے بارے میں کیا حکم ہے اورکیا اسے مسلمانوں کے قبرستان میں ہی دفن رہنے دیا جائے یا اُسے نکال کر دوسرے قبرستان میں دفن کیاجائے؟ (عبیدالسلام۔سرگودھا) (8مئی 1992) جواب۔ مرزائی بلاشبہ کافر ہیں۔ ان سے مسلمانوں جیسا تعلق قائم کرنا بھی حرام ہے۔ قرآن مجید میں ہے: (یاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَا جَآئَ کُمْ مِّنَ الْحَقِّ ) (الممتحنۃ:1) ”مومنو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ۔ تم تو ان کو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ اور وہ(دین) حق سے جو تمہارے پاس آیا ہے، منکر ہیں۔‘‘ لہٰذا جن مسلمانوں نے ایک مرزائی کے جنازہ میں شرکت کی وہ شدید ترین کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انھیں