کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 125
جنازہ پڑھنا بحق ثابت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ( اُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم بِصَبِیٍّ مِن صِبْیَانِ الاَنْصَارِ، فَصَلَّی عَلَیہِ …) [1] پھر وہ بچہ جس کی تخلیق مکمل ہوچکی ہو اور ماں کے شِکم میں وفات پاجائے، اس کی نمازِ جنازہ مشروع ہے جیسا کہ علامہ موصوف کا کہنا ہے اور شیخ ابن باز ’’فتح الباری‘‘کے حاشیہ پر رقم طراز ہیں: ( اَلقَولُ بِعَدَمِ الصَّلَاۃِ عَلَی السِّقْطِ ضَعِیفٌ۔ وَالصَّوَابُ شَرعِیَّۃُ الصَّلَاۃِ عَلَیہِ اِذَا سَقَطَ بَعدَ نَفخِ الرُّوحِ فِیہِ۔ وَ کَانَ مَحکُومًا بِاِسلَامِہِ، لِاَنَّہُ مَیِّتٌ مُسلِمٌ فَشُرِعَتِ الصَّلَاۃٌ عَلَیہِ، کَسَائِرِ مَوتَی المُسلِمِینَ ، وَ لِمَا رَوَی اَحمَدُ ، وابوداؤد ، والترمذی والنسائی، عن المغیرۃ بن شعبۃ اَنَّ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم قَالَ : وَالسِّقْطُ یُصَلّٰی عَلَیہِ ، وَ یُدعٰی لِوَالِدَیہِ بِالمَغفِرَۃِ ، وَالرَّحمَۃِ ) (واسنادہ حسن ) (واللہ اعلم ) ‘ (3/ 201) اس کے مقابلہ میں جابر کی روایت ضعیف ہے۔ ملاحظہ ہو! ’’نصب الرایہ‘‘(2/277)، ’’تلخیص‘‘ (5/ 146، 47)، ’’المجموع‘‘(5/ 255) اور علامہ کی کتاب ’’نقد التاج الجامع‘‘ (رقم: 293) فرمایا : (وَ اِنَّمَا صَحَّ الحَدِیثَ بِدُونِ ذِکرِ الصَّلَاۃِ فِیہِ)جیسا کہ موصوف نے ’’إرواء الغلیل‘‘ (1704)میں اس امر کی تحقیق کی ہے۔ اور ’’سنن ترمذی‘‘ کی حدیث کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو! إرواء الغلیل (6/ 148) اور اخیر میں بخاری کے حوالہ سے جو عبارت نقل کی ہے ،یہ زہری کا قول ہے۔ مرفوع روایت نہیں۔ یہاں محقق قول وہی ہے، جو پہلے گزر چکا۔ لہٰذا مرویات میں کوئی تعارض نہیں۔ بچہ اگر چند سانس لے کر فوت ہو جائے یا مردہ پیدا ہو تو اس کے جنازہ کا کیا حکم ہے؟ سوال۔ اگر کوئی بچہ پیدا ہو لیکن وہ فوت ہو جائے قبل اس کے کہ اُس کے کان میں اذان دی جائے ۔ اس صورت میں کیا اس کا جنازہ عام طور کے مطابق پڑھا جائے گا یا بغیر جنازہ کے ہی دفن کردیا جائے گا۔ ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اگر بچہ خواہ ایک ہی سانس کیوں نہ لے اُس کا جنازہ ضرور پڑھا جائے گا۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ (جماعت اہل حدیث کڑیاں کلاں) ( 3جولائی 1992ء) جواب۔ صورتِ مسؤلہ میں بالاتفاق بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔ ہاں البتہ اگر بچہ مرا ہوا پیدا ہو تو اس بارے [1] ۔ سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الصلوۃ علی ابن رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم وذکر وفاتہ، رقم : 1511۔ [2] ۔ سنن أبی داؤد کتاب الجنائز، باب المشی امام الجنازۃ، رقم : 3182۔ وسنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الصلوٰۃ علی الطفل، رقم : 1507 [3] ۔صحیح البخاری، کتاب القدر، رقم : 3208۔ صحیح مسلم، کتاب القدر، رقم : 2643 [4] ۔ سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الصلوۃ علی الطفل، رقم:1508 [5] ۔ سنن الترمذی، کتاب الجنائز، باب ترک الصلوۃ علی الطفل حتی یستہل،رقم:1032 [6] ۔صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب اذا اسلم الصبی، رقم: 1385