کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 102
”بخاری میں اس سلسلہ کی کوئی مسند روایت کہاں ہے؟ اس بات کے ضعف کا آپ کو اندازہ تھا، اس لئے گول مول الفاظ استعمال کرکے قارئین کو یہ تاثر دیا گیا گویا بخاری میں کوئی مرفوع حدیث اس سلسلہ میں موجود ہے۔ اگر اس باب میں مرفوع حدیث ہوتی تو بحوالہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ قراء تِ فاتحہ کیوں نہ کرتے؟‘‘ قارئین کرام! اس وقت بنیادی طور پر اس بات کا جائزہ لینا مقصود ہے کہ کیا نمازِ جنازہ میں قراء ۃ فاتحہ ثابت ہے یا نہیں؟ 1۔(پہلے صحیح بخاری میں باب قراء ۃ فاتحۃ الکتاب علی الجنازۃ کے تحت مشارٌ الیہ حدیث ملاحظہ فرمائیں)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ: ”انہوں نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی، جس میں سورۃ فاتحہ پڑھی اور فرمایا (میں نے فاتحہ اس لئے پڑھی ہے ) تاکہ تم جان لو کہ جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھنا سنت ہے‘‘[1]اور حاکم کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک جنازہ میں الحمد جہر سے پڑھی، پھر فرمایا:میں نے جہر سے اس لئے پڑھا ہے تاکہ تم لوگوں کومعلوم ہوجائے کہ جنازہ میں الحمد پڑھنا سنت ہے۔‘‘[2] 2۔) اور حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نمازِ جنازہ میں سنت یہ ہے کہ نمازی سورۂ فاتحہ پڑھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، پھر میت کے واسطے اِخلاص کے ساتھ دعا کرے اور قراء ت صرف ایک ہی مرتبہ کرے، پھر سلام پھیرے۔ ملاحظہ ہو کتاب فضل الصلاۃ علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور المنتقی ابن جارود۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث کے راوی صحیحین کے روای ہے :کذا فی النیل۔ 3۔) امام عبدالرزاق اور نسائی ;نے حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ’’نمازِ جنازہ میں سنت طریقہ یہ ہے کہ نمازی اللہ اکبر کہے پھر سورۂ فاتحہ پڑھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے۔ پھر میت کے لئے اِخلاص کے ساتھ دعا کرے اور قراء ت صرف پہلی تکبیر میں کرے‘‘۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ إسنادہ صحیح ’’اس کی سند صحیح ہے‘‘۔[3] 4۔ سنن ترمذی میں مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما نے ایک جنازہ پڑھایا تو فاتحہ پڑھی۔ طلحہ بن عبداللہ بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا:( مِنَ السُّنَّۃِ اَوْ مِنْ تَمَامِ السُّنَّۃِ) [1] ۔ صحیح البخاری،الجنائز،بَابُ قِرَاء َۃِ فَاتِحَۃِ الکِتَابِ عَلَی الجَنَازَۃِ ،رقم:1335 [2] ۔ مستدرک علی الصحیحین للحاکم،کِتَابُ الْجَنَائِزِ،رقم:1323 [3] ۔ مصنف عبدالرزق،بَابُ الْقِرَاء َۃِ وَالدُّعَاء ِ فِی الصَّلَاۃِ عَلَی الْمَیِّتِ،رقم:6428، سنن النسائی،الدُّعَائُ ، رقم:1989