کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 101
دعا پڑھی ہو۔‘‘ حالانکہ اس تأویل کی تردید کے لیے یہی کافی ہے، کہ احادیث میں تو ’’فاتحہ الکتاب‘‘ کی قرأت کے ساتھ ایک سورت کا بھی ذکر ہے، جس میں علی وجہ الدعا والی تأویل ممکن نہیں، اور پھر یہ محض دعویٰ ہے، جس پر کوئی دلیل نہیں۔ چنانچہ امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ( وَھٰذَا بَاطِلٌ لِأَنَّہُم ثَبَتَ عَنہُم الاَمرُ بِالقِرَائَۃ ِ وَ اِنَّہَا سُنَّتُہَا فَقَولٌ مَن قَالَ : لَعَلَّہُم قَرَائُ وہَا دُعَائًا کَذبٌ بُحتٌ ) یعنی ’’بطورِ دعا والا نظریہ باطل ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے قرأت کا حکم ثابت ہے اور یہ نمازِ جنازہ میں مسنون ہے۔ پس جن لوگوں نے کہا ہے، کہ ممکن ہے انھوں نے فاتحہ کو بطورِ دعا پڑھا ہو سفید جھوٹ ہے۔‘‘ ان اصحابِ قیاس پر تعجب ہے کہ ایک طرف تو نمازِ جنازہ کو نماز کہتے ہیں، اس میں تکبیر، استقبالِ قبلہ، امامتِ رجال، طہارت، سلام واجب قرار دیتے ہیں، اور پھر قرأت کو ساقط کرتے ہیں۔ حالانکہ حدیث (لاَ صَلَاۃَ اِلَّا بِفَاتِحَۃِ الکِتَابِ )[1]اپنے عموم کے اعتبار سے نمازِ جنازہ کو بھی شامل ہے۔ لہٰذا سابقہ دلائل کے بعد ان بے اصل تأویلات کی قطعاً کوئی اہمیت نہیں۔ اب جنازے میں سورۃ الفاتحہ کا پڑھنا جائز کی بجائے واجب ماننا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ پھر یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ حنفیہ کے نزدیک سُبحَانَکَ اللّٰہُمَّ پڑھنا مسنون ہے۔ حالانکہ جنازے میں اس کا اصلاً ثبوت ہی نہیں ہے (جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے تصریح کی ہے) اور قرأت کی نفی کرتے ہیں جو کہ احادیث وآثار سے ثابت ہے۔(کتاب احکام جنائز) لہٰذا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے صحیح طُرق سے صرفِ نظر کرکے محض ضعیف طریق پر اعتماد کر بیٹھنا سراسر بے انصافی اور مسلک پروری ہے۔ امید ہے راہِ حق کے متلاشی کے لیے یہ چند دلائل کافی ہوں گے۔ (والتوفیق بید اللّٰہ) نمازِ جنازہ میں سورہ فاتحہ کی قرا ء ت پر اعتراضات کا جائزہ ماہنامہ ’’محدث‘‘اور ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘مؤرخہ 15؍ دسمبر 2000ء میں جنازہ کے بعد مروّجہ دعا کے سلسلہ میں حنفی، بریلوی فتویٰ کے تعاقب میں میرا ایک فتویٰ شائع ہوا۔ اس میں ضمناً جنازہ میں سورۂ فاتحہ کی قراء ت کامسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ اس پر اسلام آباد سے محترم ابوبکر صدیق صاحب بایں الفاظ معترض ہیں: [1] ۔ صحیح البخاری، باب وُجُوبِ القِرَائَۃِ لِلاِمَامِ وَالمَامُومِ فِی الصَّلٰوۃِ کُلِّہَا … الخ، رقم: 756، صحیح مسلم:394