کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 879
اٹھائے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے کہ اسے حلق میں ہی تیر لگا ہوا تھ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ وہی شخص ہے ۔ صحابہ نے ہاں میں جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ سے مخلص تھا اور اللہ نے سچ کردیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے چوغے میں کفن دیا اور آگے رکھ کر نمازِ جنازہ پڑھی جس میں یہ الفاظ بھی کہے: اے اللہ یہ تیرا بندہ تیرے رستے میں ہجرت کرتے ہوئے نکلا، پھر شہادت حاصل کی، میں اس پر گواہ ہوں۔‘‘ جواب: امام بیہقی نے صحیح متواتراحادیث کے بالمقابل اس دیہاتی کی نمازِ جنازہ کے بارے میں مروی حدیث کے بارے میں یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس کی وفات معرکہ کے بعد ہوئی تھی، اسی لیے ، اس کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی۔(مرعاۃ،ج:۲،ص:۴۸۶) اس کی تائید اس قرینہ سے بھی ہوتی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم معرکہ کے بعد مالِ غنیمت بھی تقسیم کر چکے تھے، پھر اس کی شہادت ہوئی ہے۔ ((عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ یَوْمًا، فَصَلَّی عَلَی أَہْلِ أُحُدٍ صَلاَتَہُ عَلَی المَیِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی المِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنِّی فَرَطٌ لَکُمْ، وَأَنَا شَہِیدٌ عَلَیْکُمْ، وَإِنِّی وَاللَّہِ لَأَنْظُرُ إِلَی حَوْضِی الآنَ، وَإِنِّی أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ ۔أَوْ مَفَاتِیحَ الأَرْضِ ۔ وَإِنِّی وَاللَّہِ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِی، وَلَکِنْ أَخَافُ عَلَیْکُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِیہَا)) [1] ’’عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر آئے اور آپ نے احد میں شہید ہونے والوں پر وہی نماز پڑھی جو میت پر پڑھی جاتی ہے پھر آپ نے منبر کی طرف رخ کیا …الخ یہاں حنفیہ کی رائے کے مطابق اگرچہ ترجمہ ’’شہداء احد پر نمازِ جنازہ پڑھنے‘‘ کا کیا گیا ہے لیکن ’’صلاۃ علی‘‘ کا مفہوم صرف نماز جنازہ نہیں ہوتا بلکہ دعاء بھی ہوتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿ وَ صَلِّ عَلَیْھِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ﴾(التوبۃ:۱۰۳) ’’یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صدقہ دینے والوں پر دعاء خیر کی تلقین کی گئی ہے اس آیت میں وارد ’’صلِّ عَلَیْھِمْ ‘‘کے الفاظ سے کسی کے نزدیک بھی نمازِ جنازہ مراد نہیں لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ ’’صلاۃ علی‘‘ کی اصطلاح نمازِ جنازہ کے لیے مخصوص ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ حدیث میں جس نماز یا دعاء کا ذکر ہے وہ واقعہ متفقہ طور پر جنگِ احد کے تقریباً آٹھ
[1] صحیح البخاری، رقم:۱۳۴۴، فتح الباری، ج:۳، ص:۲۰۹