کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 878
وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِہِ وَاتَّبَعَہُ، ثُمَّ قَالَ: أُہَاجِرُ مَعَکَ، فَأَوْصَی بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْضَ أَصْحَابِہِ، فَلَمَّا کَانَتْ غَزْوَۃٌ غَنِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَبْیًا، فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَہُ، فَأَعْطَی أَصْحَابَہُ مَا قَسَمَ لَہُ، وَکَانَ یَرْعَی ظَہْرَہُمْ، فَلَمَّا جَاء َ دَفَعُوہُ إِلَیْہِ، فَقَالَ: مَا ہَذَا؟، قَالُوا: قِسْمٌ قَسَمَہُ لَکَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَہُ فَجَاء َ بِہِ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا ہَذَا؟ قَالَ: قَسَمْتُہُ لَکَ، قَالَ: مَا عَلَی ہَذَا اتَّبَعْتُکَ، وَلَکِنِّی اتَّبَعْتُکَ عَلَی أَنْ أُرْمَی إِلَی ہَاہُنَا، وَأَشَارَ إِلَی حَلْقِہِ بِسَہْمٍ، فَأَمُوتَ فَأَدْخُلَ الْجَنَّۃَ فَقَالَ: إِنْ تَصْدُقِ اللَّہَ یَصْدُقْکَ، فَلَبِثُوا قَلِیلًا ثُمَّ نَہَضُوا فِی قِتَالِ الْعَدُوِّ، فَأُتِیَ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحْمَلُ قَدْ أَصَابَہُ سَہْمٌ حَیْثُ أَشَارَ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَہُوَ ہُوَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقَ اللَّہَ فَصَدَقَہُ، ثُمَّ کَفَّنَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی جُبَّۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَدَّمَہُ فَصَلَّی عَلَیْہِ، فَکَانَ فِیمَا ظَہَرَ مِنْ صَلَاتِہِ: اللَّہُمَّ ہَذَا عَبْدُکَ خَرَجَ مُہَاجِرًا فِی سَبِیلِکَ فَقُتِلَ شَہِیدًا أَنَا شَہِیدٌ عَلَی ذَلِکَ)) [1]
’’شداد بن ہاد سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار بن گیا، پھر کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دھیان رکھنے کا ارشاد فرمایا پھر جب وہ معرکہ پیش آیا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مالِ غنیمت حاصل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حصہ اس کے ساتھیوں کے ہاتھ دیا، کیونکہ وہ ان کے جانور چروایا کرتا تھا جب صحابہ اسے غنیمت میں حصہ دینے کے لیے آئے تو اس نے پوچھا یہ کیسا مال ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے بھی مالِ غنیمت سے حصہ دیا ہے ۔ چنانچہ وہ اسی حصہ کو لیے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، کہنے لگا کہ یہ مال کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت میں سے حصہ دینے کی بات کہی تو کہنے لگا کہ میں اس بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کر رہا۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے حلق میں تیر لگے اور موت آئے تو جنت میں داخل ہوجاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو اللہ سے مخلص ہے تو اللہ اسے سچ کردے گا۔ صحابہ تھوڑی دیر ٹھہرے پھر دشمن سے لڑنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے،کچھ دیر بعد اس شخص کو
[1] سنن النسائی،الصَّلَاۃُ عَلَی الشُّہَدَاء ِ ،رقم:۱۹۵۳(مترجم،ج:۱،ص:۲۲۳۔۲۲۴)