کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 877
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَجْمَعُ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ مِنْ قَتْلَی أُحُدٍ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ یَقُولُ: أَیُّہُمْ أَکْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ، فَإِذَا أُشِیرَ لَہُ إِلَی أَحَدِہِمَا قَدَّمَہُ فِی اللَّحْدِ، وَقَالَ: أَنَا شَہِیدٌ عَلَی ہَؤُلاَء ِ یَوْمَ القِیَامَۃِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِہِمْ فِی دِمَاۂمْ، وَلَمْ یُغَسَّلُوا، وَلَمْ یُصَلَّ عَلَیْہِمْ)) [1] ’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کی تکفین کے لیے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں جمع کرتے تھے پھر پوچھتے کہ ان میں سے کس کو قرآن زیادہ آتا تھا پھر جس کے بارے میں بتایا جاتا، اسے لحد میں آگے رکھتے اور کہتے کہ قیامت کے دن ان لوگوں پر گواہ ہوں گا۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تدفین خون میں لتھڑے ہوئے کرنے کا حکم صادر فرمایا، انھیں غسل دیا گیا اور نہ اسے کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی۔‘‘ اس کی تائید حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیان سے بھی ہوتی ہے کہ شہداء احد کو بغیر غسل خون میں لتھڑے ہوئے دفن کیا گیا تھا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی تھی۔(احمد ، ابوداؤد، ترمذی) شہداء احد کے بارے میں نمازِ جنازہ کی عدم ادائیگی پر دلالت کرنے والی احادیث اتنی زیادہ ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے انھیں متواتر قرار دیا ہے۔[2] خلافت ِ راشدہ اور بعد کے ادوار مین شہدائے معرکہ کی نمازِ جنازہ کا رواج نہیں ہوا۔ کجا یہ کہ غائبانہ جنازہ ہو۔ امام ابن قیم فرماتے ہیں کہ’’رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی اور یہ بھی معروف نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر غزوات میں اپنے کسی ساتھی شہید ہونے والے کی نمازِ جنازہ پڑھی ہو۔ اسی طرح بعد ازاں خلفائے رشدین اور ان کے ماتحت حکام کا طرزِ عمل رہا ہے۔‘‘[3] حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کو ہی اپنا رواج بنانا چاہیے۔ حنفیہ اور بعض حنابلہ جو شہید معرکہ کی نمازِ جنازہ کی مشروعیت کے قائل ہیں، ان کے دلائل کا جائزہ سطور ذیل میں ملاحظہ فرمائیں: (۱)عَنْ شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ جَاء َ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
[1] فتح الباری،ج:۳،ص:۲۰۹، صحیح البخاری،بَابُ الصَّلاَۃِ عَلَی الشَّہِیدِ، رقم: ۱۳۴۳ [2] فتح الباری،ج:۳،ص:۲۱۰، بحوالہ کتاب الام للشافعی [3] زاد المعاد، ج:۲، ص:۹۸