کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 875
((اَلطِّفلُ لَا یُصَلّٰی عَلَیہِ وَ لَا یَرِثُ وَ لَا یُورَثُ حَتّٰی یَستَھِلَّ )) [1]
اور صحیح بخاری میں ہے:
((اِذَا استَھَلَّ صَارِخًا صُلِّیَ عَلَیہِ وَ لَا یُصَلّٰی عَلٰی مَن لَا یَستَھِلُّ مِن اَجلِ أَنَّہٗ سِقطًا)) [2]
ان ہر دو مسائل میں تعارض ہے اقرب الی الصواب کون سی صورت ہے؟
جواب: واضح ہو کہ علامہ البانی کا مقصود محض نمازِ جنازہ کے حکم سے استثناء ہے، نہ کہ ان کی طرف کسی خیانت کی نسبت ہے۔ حاشا وکلا نہیں۔
اور جن روایات میں یہ ہے، کہ آپ نے اپنے صاحبزادے ابراہیم کی نمازِ جنازہ پڑھی ہے، ان میں کلام ہے یہ مقال سے خالی نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کا جنازہ نہ پڑھنا محض جواز بیان کرنے کے لیے تھا، ورنہ آپ سے بچے کی نمازِ جنازہ پڑھنا بحق ثابت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
((اُتِیَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بِصَبِیٍّ مِن صِبیَانِ الاَنصَارِ، فَصُلِّیَ عَلَیہِ … )) [3]
پھر وہ بچہ جس کی تخلیق مکمل ہوچکی ہو اور ماں کے شِکم میں وفات پاجائے، اس کی نمازِ جنازہ مشروع ہے جیسا کہ علامہ موصوف کا کہنا ہے اور شیخ ابن باز ’’فتح الباری‘‘کے حاشیہ پر رقم طراز ہیں:
((اَلقَولُ بِعَدَمِ الصَّلَاۃِ عَلَی السَقطِ ضَعِیفٌ۔ وَالصَّوَابُ شَرعِیَۃُ الصَّلَاۃِ عَلَیہِ اِذَا سَقَطَ بَعدَ نَفخِ الرُّوحِ فِیہِ۔ وَ کَانَ مَحکُومًا بِاِسلَامِہِ، لِاَنَّہُ مَیِّتٌ مُسلِمٌ فَشُرِعَتِ الصَّلَاۃٌ عَلَیہِ، کَسَائِرِ مَوتَی المُسلِمِینَ ، وَ لِمَا رَوَی اَحمَدُ ، وابوداؤد ، والترمذی والنسائی، عن المغیرۃ بن شعبۃ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ : وَالسَقَطُ یُصَلّٰی عَلَیہِ ، وَ یُدعٰی لِوَالِدَیہِ بِالمَغفِرَۃِ ، وَالرَّحمَۃِ (واسنادہ حسن ) (واللہ اعلم ))) (۳؍ ۲۰۱)
اس کے مقابلہ میں جابر کی روایت ضعیف ہے۔ ملاحظہ ہو! ’’نصب الرایہ‘‘(۲؍۲۷۷)، ’’تلخیص‘‘ (۵؍ ۱۴۶، ۴۷)، ’’المجموع‘‘(۵؍ ۲۵۵) اور علامہ کی کتاب ’’نقد التاج الجامع‘‘ (رقم: ۲۹۳) فرمایا : وَ اِنَّمَا صَحِیحٌ الحَدِیثِ بِدُونِ ذِکرِ الصَّلَاۃِ فِیہِ‘‘ جیسا کہ موصوف نے ’’ارواء
[1] سنن الترمذی، کتاب الجنائز، باب ترک الصلوۃ علی الطفل حتی یستہل،رقم:۱۰۳۲
[2] صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب اذا اسلم الصبی، رقم: ۱۳۵۸
[3] صحیح مسلم، بَابُ مَعْنَی کُلِّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ وَحُکْمِ مَوْتِ …الخ ،رقم:۲۶۶۲، سنن النسائی،الصَّلَاۃُ عَلَی الصِّبْیَانِ،رقم:۱۹۴۷،مسند احمد