کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 874
1....نابالغ بچہ: اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرزند ابراہیم کی نمازِ جنازہ ادا نہیں کی جب کہ ان کی عمر اٹھارہ ماہ تھی۔[1] ابراہیم بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی خیانت کی تھی جس بناء پر جنازہ نہ پڑھایا گیا۔ حالانکہ اس حدیث کے ذیل میں حضرت وائل بن داؤد کی روایت میں ہے کہ ((لَمَّا مَاتَ اِبرٰھِیمُ بنُ النَّبِیَّ صَلّٰی عَلَیہِ رَسُول اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فِی المَقَاعِدِ۔ الحدیثِ)) [2] 2....سنن ابن ماجہ میں بروایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرزند ابراہیم کا جنازہ پڑھایا اور فرمایا: ((اِنَّ لَہُ مُرضِعًا فِی الجَنَّۃِ وَ لَو عَاشَ لَکَانَ صَدِّیقًا نَبِیًّا )) [3] پھر ص:۱۲۷، پر ارقام فرماتے ہیں کہ حسب ذیل افراد کی نمازِ جنازہ ادا کرنا شرعاً ثابت ہے۔ بچہ اگرچہ اس کی ناتمام ولادت ہوئی ہو اس کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔[4] ناتمام وہ بچہ ہے جس کے چار ماہ مکمل ہوچکے ہوں اور اس میں روح پھونگی گئی ہو پھر وفات پائے۔ پھر اس کی وضاحت اور تائید کے لیے تخلیق انسانی کے مدارج کی حدیث (کہ انسان اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن لوتھڑے کی شکل میں، پھر اتنے ہی دن بوٹی کی طرح رہتا ہے، پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔) الحدیث ارقام فرماتے ہیں۔[5] حالاں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا استَھَلَّ الصَّبِیُّ صُلِّیَ عَلَیہِ)) [6] اور سنن الترمذی میں بروایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[1] سنن ابوداؤد، کتاب الجنائز باب فی الصلوۃ علی الطفل، ج:۲، ص:۴۵۴ [2] حوالہ مذکور [3] سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الصلوۃ علی ابن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم وذکر وفاتہ، ص:۱۰۸ [4] سنن ابوداؤد کتاب الجنائز، باب المشی امام الجنازۃ، ج:۲، ص:۴۵۳۔ وسنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الصلوٰۃ علی الطفل، ص:۱۰۸ [5] صحیح بخاری، کتاب القدر، ج:۲، ص:۹۷۵۔ صحیح مسلم، کتاب القدر، ج:۲، ص:۳۳۲ [6] سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الصلوۃ علی الطفل، رقم:۱۵۰۸