کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 869
پڑھ، اس کا قطعاً یہ معنی نہیں کہ کھانے سے فراغت کے بعد بسم اللہ پڑھنی چاہئے’’...امام واحدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’فقہاء کرام کا اس بات پراجماع ہے کہ استعاذہ قرا ء ت سے پہلے ہے۔‘‘ [1]
بلاشبہ شرع میں دعا کی بالعموم تاکید ہے ۔غالباً اس بنا پر فقہاء حنفیہ نے جنازہ میں قراء ت سے استغنائی پہلو اختیار کرکے اس کا نام دعاء وثناء وغیرہ رکھا ہے۔ مؤطا امام محمد میں ہے :لا قراء ۃ علی الجنازۃ وھو قول ابی حنیفۃ اور یہ قول المبسوط للسرخسی رحمہ اللہ میں بھی ہے (۲؍۶۴) ... البتہ محقق ابن الہمام فتح القدیر (۱؍۴۸۹) میں فرماتے ہیں:
’’فاتحہ نہ پڑھے تاہم بہ نیت ِثنا پڑھی جاسکتی ہے۔کیونکہ قراء ت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں’’
علامہ ابن الہمام جیسے محقق کی یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے، اس لئے کہ فاتحہ کی قراء ت کا اثبات تو صحیح بخاری میں موجود ہے: باب قراء ۃ فاتحۃ الکتاب علی الجنازۃ۔ تو پھر کیا یہ بات معقول ہے کہ اثناء جنازہ میں اخلاصِ دعا کی تاکید تو نہ ہو، لیکن سلام پھیرنے کے بعد کہاجائے کہ اب اِخلاص سے دعا کرو۔ غالباً اس دھوکہ کے پیش نظر حنفی بھائی نمازِ جنازہ کا تو جھٹکا کرتے ہیں، بعد میں لمبی لمبی دعائیں کی جاتی ہیں جس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔
اصولِ فقہ کا قاعدہ معروف ہے کہ ’’عبادات میں اصل حظر (ممانعت)ہے، جواز کے لئے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے’’۔ عہد ِنبوت میں کتنے جنازے پڑھے گئے، کسی ایک موقع پر بھی ثابت نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازجنازہ کے بعد دعا کی ہو۔
صحیح بخاری میں حدیث ہے: ((مَنْ أَحْدَثَ فِی أَمْرِنَا ہَذَا مَا لَیْسَ فِیہِ، فَہُوَ رَدٌّ ) [2]
’’جو دین میں اضافہ کرے وہ مردود ہے۔‘‘
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علیک بالاثر وطریقۃ السلف وإیاک وکل محدثۃ فإنھا بدعۃ ’’آثار اور طریقہ سلف کو لازم پکڑو، اپنے آپ کو دین میں اضافہ سے بچاؤ وہ بدعت ہے۔‘‘ [3]
ابن الماجشون نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا، وہ فرماتے تھے:
’’جو دین میں بدعت ایجاد کرکے، اسے اچھا سمجھے تو گویا وہ یہ باور کراتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت میں خیانت کی ہے،اس لئے کہ اللہ کا فرمان ہے ﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ﴾ جو
[1] تفسیر فتح القدیر:۳؍۱۹۳
[2] صحیح البخاری،بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَی صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ،رقم:۲۵۹۷
[3] ذمّ التاویل از ابن قدامہ