کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 864
(( اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کَانَ إِذَا صَلّٰی عَلَی الجَنَازَۃِ، رَفَعَ یَدَیہِ فِی کُلِّ تَکبِیرَۃٍ )) [1] یعنی ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نمازِ جنازہ پڑھاتے تو ہر تکبیر میں رفع یدین کرتے۔‘‘ حدیث ہذا کی سند کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اس کو ’’طبرانی أوسط‘‘ کے علاوہ ’’دارقطنی‘‘ نے بھی اپنی ’’العلل‘‘ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ پھر اس کے موقوف ہونے کو درست قرار دیا ہے۔ وجہ یہ بیان کی ہے کہ عمر بن شبّہ کے علاوہ کسی نے اس کو مرفوع ذکر نہیں کیا۔ لیکن شیخ ابن باز رحمہ اللہ ’’فتح الباری‘‘ پر تعلیقات میں فرماتے ہیں: ((وَالأَظھُر عَدَمُ الاِلتِفَاتِ إِلٰی ھٰذِہِ العِلَّۃِ ، لِأَنَّ عُمَرَ المَذکُورِ ثِقَۃٌ، فَیُقبَلُ رَفعُہٗ ، لِأَنَّ ذٰلِکَ زِیَادَۃٌ مِّن َثِقَۃٍ۔ وَ ھِیَ مَقبُولَۃٌ عَلَی الرَّاجِحِ عِندَ أئِمَّۃِ الحَدِیثِ، وَ یَکُونُ ذٰلِکَ دَلِیلًا عَلٰی شَرعِیَّۃِ رَفعِ الیَدَینِ فِی تَکبِیرَاتِ الجَنَازَۃِ ۔ (وَاللّٰہُ أَعلَم) )) [2] یعنی ’’زیادہ واضح بات یہ ہے کہ یہ علت ناقابلِ التفات ہے، کیونکہ عمر مذکور ثقہ ہے۔ اس کا رفع قابلِ قبول ہے۔ راجح قول کے مطابق ائمہ حدیث کے ہاں ثقہ راوی کی زیادتی مقبول ہوتی ہے۔ لہٰذا حدیث ہذا اس بات کی دلیل ہے کہ نمازِ جنازہ کی تکبیرات میں رفع یدین مشروع ہے۔‘‘ (واﷲ أعلم) دوسری طرف حنفیہ و ثوری کے علاوہ حافظ ابن حزم، امام شوکانی اور علامہ البانی رحمہما اللہ وغیرہ تکبیرِ اُولیٰ میں رفع یدین کے ما سوا باقی تکبیروں میں عدمِ رفع کے قائل ہیں۔ وجہ یہ بیان کی ہے کہ کوئی قابلِ حجت مرفوع دلیل نہیں مل سکی۔ یاد رہے شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی بات بھی محلِّ نظر ہے، کیونکہ راوی عمر بن شبّہ بقول ابن حجر رحمہ اللہ ’’صدوق‘‘ ، ’’درجۂ رابعہ‘‘ سے ہے۔ اس کی زیادتی ثقات کے خلاف قابلِ قبول نہیں۔ البتہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح سندوں سے رفع یدین ثابت ہے۔ اس بناء پر امام عبد الجبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہاتھ اٹھانا، نہ اٹھانے سے بہتر ہے۔[3] مولانا محمد عبدہٗ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دلائل کی روشنی میں ہم رفع الیدین کو غیر مشروع نہیں کہہ سکتے۔[4]
[1] معرفۃ السنن والآثار، بَابُ التَّکْبِیرِ عَلَی الْجَنَائِزِ وَغَیْرِ ذَلِکَ،رقم:۷۶۱۳ [2] فتح الباری:۳؍۱۹۰ [3] فتاویٰ غزنویہ:ص:۹۹،۱۰۰ [4] أحکام جنائز،ص:۱۷۹