کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 862
’’اور یہی بات اولیٰ ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔‘‘
مولانا عبدالحی نے ’’التعلیق الممجد‘‘ میں بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔ قاضی ثناء اللہ حنفی مجددی بھی اپنے ’’وصیت نامہ‘‘ میں اس بات کے قائل ہیں۔[1]
امام طحاوی رحمہ اللہ وغیرہ نے بھی اپنے مسلک کی حمایت کے لیے احادیث قرأت کی تأویل کو ضروری خیال کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
((مَن قَرَأَھَاَ مِنَ الصَّحَابَۃِ یَحتَمِلُ أَن یَکُونَ عَلٰی وَجہِ الدُّعَائِ، لَا التِّلَاوَۃِ ))
’’ممکن ہے جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رضی اللہ عنہم نے جنازے میں سورۂ فاتحہ پڑھی انھوں نے تلاوت وقرأت کی بجائے بطورِ دعا پڑھی ہو۔‘‘
حالانکہ اس تأویل کی تردید کے لیے یہی کافی ہے، کہ احادیث میں تو ’’فاتحہ الکتاب‘‘ کی قرأت کے ساتھ ایک سورت کا بھی ذکر ہے، جس میں علی وجہ الدعا والی تأویل ممکن نہیں، اور پھر یہ محض دعویٰ ہے، جس پر کوئی دلیل نہیں۔ چنانچہ امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
((وَھٰذَا بَاطِلٌ لِأَنَّھُم ثَبَتَ عَنھُم الاَمرُ بِالقِرَائَۃ ِ وَ اِنَّھَا سُنَّتُھَا فَقَولٌ مَن قَالَ : لَعَلَّھُم قَرَائُ وھَا دُعَائًا کَذبٌ بُحتٌ ))
یعنی ’’بطورِ دعا والا نظریہ باطل ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رضی اللہ عنہم سے قرأت کا حکم ثابت ہے اور یہ نمازِ جنازہ میں مسنون ہے۔ پس جن لوگوں نے کہا ہے، کہ ممکن ہے انھوں نے فاتحہ کو بطورِ دعا پڑھا ہو سفید جھوٹ ہے۔‘‘
ان اصحابِ قیاس پر تعجب ہے کہ ایک طرف تو نمازِ جنازہ کو نماز کہتے ہیں، اس میں تکبیر، استقبالِ قبلہ، امامتِ رجال، طہارت، سلام واجب قرار دیتے ہیں، اور پھر قرأت کو ساقط کرتے ہیں۔ حالانکہ حدیث ((لاَ صَلَاۃَ اِلَّا بِفَاتِحَۃِ الکِتَابِ)) [2] اپنے عموم کے اعتبار سے نمازِ جنازہ کو بھی شامل ہے۔ لہٰذا سابقہ دلائل کے بعد ان بے اصل تأویلات کی قطعاً کوئی اہمیت نہیں۔ اب جنازے میں سورۃ الفاتحہ کا پڑھنا جائز کی بجائے واجب ماننا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
پھر یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ حنفیہ کے نزدیک سُبحَانَکَ اللّٰھُمَّ پڑھنا مسنون ہے۔
[1] فتاویٰ مفید الاحناف، ص:۲
[2] صحیح البخاری، باب وُجُوبِ القِرَائَۃِ لِلاِمَامِ وَالمَامُومِ فِی الصَّلٰوۃِ کُلِّھَا … الخ،رقم:۷۵۶،صحیح مسلم:۳۹۴