کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 861
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ إسنادہ صحیح‘‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (۳؍۲۰۴) نیز صحیح بخاری کے (ترجمۃ الباب) میں حضرت حسن سے منقول ہے:((یَقرَأُ عَلَی الطِّفلِ بِفَاتِحَۃِ الکِتَابِ)) [1]بچے کی نمازِ جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھی جائے۔ ابن المنذر نے حضرت عبداللہ بن مسعود، حسن بن علی، ابن زبیر اور مسور بن مخرمہ سے نمازِ جنازہ میں فاتحہ کی مشروعیت نقل کی ہے۔ نیز امام شافعی، امام احمد اور دیگر اہلِ علم نمازِ جنازہ میں فاتحہ اور ایک دیگر سورت کی قرأت کی مشروعیت کے قائل ہیں۔ حضرت مجاہد کہتے ہیں: ((سَأَلتُ ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ صَحَابِیًا، فَقَالُوا : یَقرَأُ )) [2] یعنی ’’میں نے اس کے بارے میں اٹھارہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا: ’’فاتحہ‘‘ پڑھی جائے۔‘‘ دوسری طرف علمائے حنفیہ ہیں، جو نمازِ جنازہ میں قرأت کے قائل نہیں ہیں۔ چنانچہ امام محمد ’’الموطأ‘‘ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اثر نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ((وَ بِھٰذَا نَاخُذُ لَا قِرَائَ ۃَ عَلٰی الجَنَازَۃِ۔ وَ ھُوَ قَولُ أَبِی حَنِیفَۃِ )) [3] نیز صاحبِ ’’ہدایہ‘‘ صفت نمازِ جنازہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ((وَالبَدَائَ ۃُ بِالثَّنَائِ، ثُمَّ بِالصَّلٰوۃِ لِاَنَّھَا سُنَّۃُ الدُّعَائِ )) یعنی پہلے ثناء اور پھر درود شریف پڑھے۔ کیونکہ دعا کا یہ مسنون طریقہ ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا عبدالحی حاشیہ مؤطا پر لکھتے ہیں: ’’ہوسکتا ہے کہ اس سے کراہت کی طرف اشارہ ہو جیسا کہ متأخرین میں سے اکثر حنفیہ نے تصریح کی ہے … اور لکھاہے کہ اگر دعا کے طور پر ’’سورۃ فاتحہ‘‘ پڑھ لی جائے تو کچھ حرج نہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امام محمد کی مراد لزوم کی نفی ہو، اور وہ جواز قرأت کے قائل ہوں۔ چنانچہ ہمارے متأخرین علماء میں سے حسن شرنبلالی نے اس کو اختیار کیا ہے اور انھوں نے اپنے رسالہ ’’النظم المستطاب‘‘ میں اس کی خوب وضاحت کی ہے اور جو علماء کراہت کے قائل ہیں، ان کی تردید کی ہے، اور لکھا ہے: ((وَ ھٰذَا ھُوَ الأَولٰی لِثُبُوتِ ذٰلِکَ عَن رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ))
[1] صحیح البخاری،بَابُ قِرَاء َۃِ فَاتِحَۃِ الکِتَابِ عَلَی الجَنَازَۃ [2] رواہ الاثرم حاشیہ موطأ امام محمد [3] مؤطا امام مالک، بَابُ: الصَّلاۃِ عَلَی الْمَیِّتِ وَالدُّعَاء ِرقم:۳۱۱