کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 860
صَاحِبِکُم))اور دوسری روایت میں ہے:((صَلُّوا عَلَی النَّجَاشِی))امام بخاری رحمہ اللہ اپنی ((صحیح‘ کے (ترجمۃ الباب)میں رقمطراز ہیں:((سَمَّاھَا صَلَاۃً لَیسَ فِیھَا رُکُوعٌ، وَ لَا سَجُودٌ)) یعنی نمازِ جنازہ میں رکوع اور سجود نہ ہونے کے باوجود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام نماز رکھا ہے۔ 2.... صحیح بخاری میں طلحہ بن عبداللہ بن عوف کا بیان ہے: ((صَلَّیتُ خَلفَ ابنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنہُ عَلٰی جَنَازَۃٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَۃِ الکِتَابِ ۔قَالَ : لِتَعلَمُوا أَنَّھَا سُنَّۃٌ )) [1] ’’میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نمازِ جنازہ پڑھی تو انھوں نے ’’سورہ فاتحہ‘‘ کی تلاوت کی۔ فرمایا، یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تمھیں اس کے سنت ہونے کا علم ہوجائے۔‘‘ صحابہ کا کسی فعل کو ’من السنۃ، کہنا اکثر علماء کے نزدیک مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ ’’کتاب الام‘‘ میں لکھتے ہیں کہ آنحضرت کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب کسی فعل کو سنت کہتے ہیں، تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مراد ہوتی ہے۔ ’’فتح الباری‘‘(۳؍۲۰۴) میں ہے:((وَقَد أَجمَعُوا عَلٰی اَنَّ قَولَ الصَّحَابِی سُنَّۃٌ ‘)) حدیث مسند ہے علمائے حنفیہ نے بھی متعدد فروع اسی اصل پر قائم کی ہیں مثلاً: ہدایہ میں ہے ’’اور جب میت کی چارپائی اٹھائیں تو اس کے چارپائے پکڑ کر اٹھائیں۔ اس کے ساتھ سنت وارد ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سنت طریقہ یہ ہے کہ چارپائی کو دو شخص اٹھائیں۔ اگلا شخص اپنی گردن پر رکھے اور پچھلا اپنے سینہ پر۔ شارح ہدایہ ابن الہمام رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ پر ردّ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: امام شافعی کا یہ قول سنت کے خلاف ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((مَنِ اتَّبَعَ الجَنَازَۃَ فَلیَأخُذ بِجَوَانِبِ السَّرِیرِ کُلِّھَا فَاِنَّہُ مِنَ السُّنَّۃِ)) [2] ’’جو شخص جنازے کے ساتھ جائے وہ باری باری اس کے سب جوانب سے پکڑ کر اٹھائے۔ بے شک یہ مسنون ہے۔‘‘ لہٰذا اس سنت پر عمل ضروری ہے۔ 3… ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نمازِ جنازہ میں سنت طریقہ یہ ہے، کہ امام پہلے تکبیر کہے، پھر فاتحہ پڑھے۔
[1] صحیح البخاری، بَابُ قِرَاء َۃِ فَاتِحَۃِ الکِتَابِ عَلَی الجَنَازَۃِ،رقم:۱۳۳۵ [2] سنن ابن ماجہ،بَابُ مَا جَاء َ فِی شُہُودِ الْجَنَائِزِ ،رقم:۱۴۷۸