کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 856
کے اعتبار سے قوی قرار دیا ہے اور ’’موطأ امام محمد‘‘ کے حاشیہ میں رقم طراز ہیں کہ:
’’فاتحہ پڑھنا ہی اولیٰ ہے کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔‘‘
بلکہ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ متاخرین علماء ِ احناف نے جو جنازہ میں فاتحہ پڑھنے کو مکروہ لکھا ہے تو علامہ حسن الشرن بلالی نے اس کی تردید میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس کا نام ہے:
((اَلنَّظْمُ الْمُسْتَطَابُ بِحُکْمِ الْقِرَائَ ۃِ فِی صَلَاۃِ الْجَنَازَۃِ بِاُمِّ الْکِتَابِ )) [1]
اور جن علماء ِ احناف نے فاتحہ پڑھنے کی تاویل یوں کی ہے کہ بطورِ ثنا فاتحہ پڑھی جائے، ان کی تردید میں مولانا لکھنوی فرماتے ہیں کہ اگر اس قسم کی تاویلات کا دروازہ کھول دیا جائے تو بہت سی مسنون قراء ات بھی ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ پھر یہ دعویٰ فی نفسہ باطل ہے کیونکہ نیت کا تعلق توباطن سے ہے جس پر نیت کرنے والے کے بتلائے بغیر مطلع ہونا ممکن نہیں۔ [2]
دوسری طرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ او رابن عمر رضی اللہ عنہ بلاشبہ جلیل القدر صحابہ ہیں۔ لیکن مسند روایات کے مقابلہ میں ان کے اَقوال کو اختیار کرنا دن کی روشنی میں چراغ جلانے کے مترادف ہے۔ ویسے بھی صحابہ کرام کئی طرح سے عنداللہ معذور ہیں لیکن واضح دلائل ثابت ہونے کے بعد ہمارے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہ جاتا۔
تعجب خیز بات یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ جن پر فقہ حنفی کا انحصار ہے، وہ بھی جنازہ میں سورہء فاتحہ پڑھنے کے قائل ہیں۔ان کے قول پر تو عمل نہیں کرتے دوسری طرف احناف حضرت ابوہریرہ کو تو غیرفقیہ قرار دیتے ہیں (جیسا کہ نور الانوار میں ہے) اس کے باوجود جنازہ میں فاتحہ پڑھنے کے سلسلہ میں ان کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا ’’غیر فقیہ‘‘ہونا انہیں نظر نہیں آتا۔ احناف کے ہاں ان دو صحابہ کی اگر اتنی ہی عظمت ہوتی جتنی ظاہر کر رہے ہیں تو وہ انکی روایات کو کبھی ردّ نہ کرتے حالانکہ واقعات اس کے خلاف ہیں۔ حدیث المصراۃ، حدیث التسبیع اور احادیث رفع الیدین وغیرہ اس امر کے واضح شواہد ہیں۔
احناف کی نماز جنازہ کو‘‘جھٹکا‘‘سے تعبیر کرنا اگرچہ کسی حد تک سخت جملہ ہے لیکن امر واقعہ یہی ہے کہ نمازِ جنازہ میں یہ طرزِعمل جہاں خلافِ سنت ہے وہاں میت سے عدم اعتنائی کا مظہر بھی ہے۔
اب آخری بات یہ ہے کہ میرا تعاقب چونکہ ایک خاص مکتب ِفکر کے حاملین سے متعلق تھا۔ ظاہر ہے اس
[1] التعلیق الممجد:ص:۱۶۵
[2] غیث الغمام:ص:۳۱۸