کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 855
قراء ت کا جواز تو ہے بشرطیکہ نمازی دعا اور ثنا کی نیت کرے۔ یہ محض اس زعم کی بنا پر ہے کہ حدیث اور قولِ امام میں تطبیق ہوسکے۔ گویا کہ امام صاحب کا قول دوسری ایک حدیث ہے حالانکہ یہ شرط(تاویل) فی نفسہ باطل ہے۔ جب ایک حدیث ثابت ہے تو پھر عمل اسی پر ہونا چاہئے۔ دوسری عجیب بات یہ ہے کہ حنفیہ کے ہاں تکبیر اولیٰ کے بعد نمازِ جنازہ میں ثنا پڑھنا جنازہ کی سنتوں میں شمار ہوتا ہے حالانکہ سنت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔ ملاحظہ فرمائیے کہ جو شے ثابت ہے، احناف اس کا انکار کرتے ہیں اور جو ثابت نہیں، اس کے اثبات کی ناکام سعی کرتے ہیں تِلْتَ اِذًا قِسْمَۃً ضِیْزٰی! علامہ ابن ہمام فتح القدیر (۱؍۴۵۹) میں لکھتے ہیں کہ ’’جنازہ میں فاتحہ نہ پڑھی جائے اِلا یہ کہ ثنا کی نیت ہو، قراء ت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔‘‘ عجب تضاد ہے، خود ہی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ صحابی کا قولِ ’’سنت‘‘مسند مرفوع کے حکم میں ہے جس کانبی رضی اللہ عنہ تک اتصال ہوتا ہے جیسا کہ ابھی گزراہے پھر خود ہی اس قاعدہ کو مقامِ بحث میں ترک کردیا ہے۔ نیز ہدایہ میں ہے کہ میت کی چارپائی اُٹھاتے ہوئے چاروں اَطراف سے پکڑا جائے۔ سنت میں اسی طرح آیا ہے۔ علامہ ابن ہمام نے اس پر دلیل یہ قائم کی ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:جو جنازہ کے پیچھے لگا، اسے چاہئے کہ سب طرفوں سے پکڑے : فَإِنَّہُ مِنَ السُّنَّۃِ ، فَوجَبَ الْحُکْم بِاَنَّ ھٰذَا ھُوَ السُّنَّۃِ ’’سنت طریقہ یہی ہے۔[1]یعنی اس طریقہ کار کو اختیار کرنا ہی سنت ہے۔ غور فرمائیے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول من السنۃ کو یہاں مرفوع کے حکم میں قرار دیا ہے جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول إِنَّھَا سُنَّۃٌ سے عدمِ اعتناء کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسے مذہبی تعصب کے علاوہ اور کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ جبکہ اثر ابن مسعود رضی اللہ عنہ منقطع ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہا کا اثر صحیح بخاری وغیرہ میں۔ محترم! اب آپ خود ہی فیصلہ کیجئے کہ اتنے بڑے محقق کی بات پر تعجب کا اظہار نہ کیا جائے تو اور کیا کیا جائے؟ مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ قلم سے بعض سخت جملے صادر ہوئے۔ عَافَانِیَ اللّٰہُ ۔ لیکن بنظر انصاف حقائق تک رسائی حاصل کرنا سب کا فرض ہے۔ حنفی علماء میں علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ کافی حد تک انصاف پسند گزرے ہیں۔ ’’عمدۃ الرعایہ‘‘ (۱؍۲۵۳) میں انہوں نے جنازہ میں فاتحہ پڑھنے کے مسلک کو دلیل
[1] سنن ابن ماجہ،بَابُ مَا جَاء َ فِی شُہُودِ الْجَنَائِزِ،رقم:۱۴۷۸، السنن الکبرٰی للبیہقی،بَابُ مَنْ حَمَلَ الْجِنَازَۃَ فَدَارَ عَلَی جَوَانِبِہَا الْأَرْبَعَۃِ،رقم:۶۸۳۴