کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 854
(۴) سنن ترمذی میں مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک جنازہ پڑھایا تو فاتحہ پڑھی۔ طلحہ بن عبداللہ بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ’’انَّہُ مِنَ السُّنَّۃِ اَوْ مِنْ تَمَامِ السُّنَّۃِ۔‘‘ ’’کہ نمازِ جنازہ میں فاتحہ سنت ہے، یا اس سے سنت کی تکمیل ہوتی ہے۔‘‘ [1]
پھر یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جنازہ کو نماز سے موسوم کیا گیا ہے جس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فرامین ہیں: (( مَنْ صَلَّی عَلَی الْجَنَازَۃِ … ، صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ ، صَلُّوا عَلَی النَّجَاشِیْ))
اِمام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز کہا ہے حالانکہ اس میں رکوع ہے نہ سجود، اس میں کلام نہ کرے اور اس میں تکبیر اور تسلیم ہے۔‘‘
پھر یاد رہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَاب کا عموم نمازِ جنازہ کو بھی شامل ہے۔
اس بحث میں جواہم شے قابل التفات ہے، وہ یہ ہے کہ صحابی کا کسی فعل یا عمل کو سنت قرار دینے سے کیا وہ واقعی سنت ِنبوی قرار پائے گا؟ اس سے متعلق امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
((وَ اَصْحَابُ النَّبِیِّ لَا یَقُوْلُوْنَ بِالسُّنَّۃِ وَالْحَقّ إِلَّا لِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، إِنْ شَائَ اللّٰہَ ))
’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سنت اور حق کا اطلاق صرف سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی کرتے تھے’’
اور امام نووی رحمہ اللہ نے المجموع(۵؍۲۲۴) میں اسی کو صحیح مذہب قرار دیا اور کہا ہے کہ اصول میں ہمارے اصحاب میں سے جمہور علماء اور دیگر اُصولی اور محدثین اسی بات کے قائل ہیں۔
محقق علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ حنفی نے التحریر میں اسی بات کو قطعی قرار دیا ہے ۔ اس کے شارح ابن امیر حاج کہتے ہیں:ہمارے متقدمین اصحاب کا یہی قول ہے۔ صاحب ِمیزان، رافع اور جمہور محدثین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔(۲؍۲۲۴)
پھر تعجب کی بات یہ ہے کہ اثباتِ سنت کے باوجود حنفیہ کا اس صحیح حدیث پر عمل نہیں حالانکہ ان کے اصول کے مطابق ہے۔ موطا امام محمد میں ہے: لَا قِرَائَ ۃَ عَلَی الْجَنَازَۃِ وَھُوَ قَوْلُ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ جنازہ میں عدمِ قراء ت ہے او رامام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے۔ متاخرین حنفیہ نے جب بنظر غائر اسی کو صحیح پایا اور صحیح حدیث کے مقابلہ میں اپنے مسلک کو مرجوح دیکھا تو اس کی تاویل انہوں نے اس طرح کی کہ فاتحہ کی
[1] سنن الترمذی،بَابُ مَا جَاء َ فِی القِرَاء َۃِ عَلَی الجَنَازَۃِ بِفَاتِحَۃِ الکِتَابِ،رقم:۱۰۲۷، مصنف عبدالرزاق،بَابُ الْقِرَاء َۃِ وَالدُّعَاء ِ فِی الصَّلَاۃِ عَلَی الْمَیِّتِ ،رقم:۶۴۲۷