کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 742
وتر نماز کے بعد مزید نوافل پڑھنا:
سوال: وِتر رات کی آخری نماز ہونی چاہیے یا وتروں کے بعد نوافل ادا کر سکتے ہیں ؟ چند احباب کہتے ہیں کہ وِتر آخری نماز ہونی چاہیے اور جو دو رکعت ثابت ہیں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے کیا تراویح اور وِتر ادا کرنے کے بعد نوافل ادا کر سکتے ہیں؟
جواب: وِتر کے بعد دو رکعت پڑھنا سنت سے ثابت ہے ۔چنانچہ صحیح مسلم میں حدیث ہے: ((ثُمَّ یُوتِرُ، ثُمَّ یُصَلِّی رَکعَتَینِ، وَ ھُوَ جَالِسٌ )) [1]’’پھر آپ وِتر پڑھتے۔ پھر بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔‘‘
شارح مسلم امام نووی فرماتے ہیں:
(( قُلتُ: اَلصَّوَابُ اِنَّ ھَاتَینِ الرَّکعَتَینِ فَعَلَھُمَا بَعدَ الوِترِ جَالِسًا، لِبَیَانِ جَوَازِ الصَّلٰوۃِ بَعدِ الوِترِ))
’’میں کہتا ہوں درست بات یہ ہے، کہ یہ دو رکعتیں وتروں کے بعد جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر پڑھی ہیں، وِتر کے بعد نماز پڑھنے کا جواز بیان کرنے کے لیے ہے۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ شارحینِ حدیث نے ان دو رکعتوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ نہیں سمجھا۔ البتہ بعض اہلِ علم نے کہا ہے، کہ وِتر کو رات کی آخری نماز بنانے والی حدیث قولی ہے، جب کہ وِتر کے بعد نماز والی حدیث فعلی ہے۔ فعل میں چونکہ خاصے کا احتمال ہوتا ہے، بخلاف قول کے ، اس لیے بہتر ہے کہ وِتر کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔
عشاء کے ساتھ وتر پڑھ لیے تو آخر رات نفل کیسے پڑھیں؟
سوال: اگر نماز عشاء کے ساتھ ہی وِتر پڑھ لیے جائیں تو آخر رات نفل پڑھنے کے لیے کیا طریقہ کار ہے ؟
[1] ======کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھی ہیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں یہ دو رکعت بیٹھ کر پڑھنا سنت ہے اس میں پورا ثواب ملے گا۔ نیز یہ علماء وِتر کے بعد دو رکعت پڑھنے کو ’ اِجعَلُوا آخِرَ صَلٰوتِکُم بِاللَّیلِ وِترًا ‘ (صحیح مسلم،بَابُ صَلَاۃُ اللَّیلِ مَثنَی مَثنَی، وَالوِترُ رَکعَۃٌ مِن آخِرِ اللَّیلِ،رقم:۷۵۱، سنن ابی داؤد، رقم: ۱۴۳۸) (اپنی رات کی آخری نماز وِتر کو بناؤ ) کے معارض یا منافی نہیں سمجھتے، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ یہاں امر وجوب کے لیے نہیں، استحباب کے لیے ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان کوئی تعارض نہیں رہتا۔(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ! مرعاۃ المفاتیح،۲؍۲۰۴، طبع قدیم)
دونوں موقف اپنے اپنے لیے شرعی بنیاد رکھتے ہیں، اس لیے اس میں تشدد کی بجائے توسع اختیار کرنے کی ضرورت ہے، کہ جو جس موقف پر عمل کرے، جواز کی گنجائش ہے۔ (واﷲ اعلم بالصواب).(ص۔ی)(۱۷۔اپریل ۱۹۹۲ء)
صحیح مسلم،بَابُ صَلَاۃِ اللَّیلِ، وَعَدَدِ رَکَعَاتِ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم … الخ ،۱؍۲۵۴، رقم:۷۳۸