کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 553
صیغہ ہے، جو ہمیشگی کو چاہتا ہے۔ تو اب اس طرح سے موافقت نہیں ہو سکتی کہ کبھی کرتے۔ کبھی نہ کرتے، بلکہ اس کی صورت یہی ہے کہ سجدہ میں رفع یدین سے مراد مستقل رفع یدین نہیں، بلکہ رفع یدین والی وہی شکل و صورت ہے۔ فتأمل فیہ! [1] رہی وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث جس کو آپ نے اصل قرار دیا ہے۔ اس میں عبد الوارث بن سعید بے شک ہمام سے زیادہ ثقہ ہے۔ لیکن ہمام کو خارج سے تقویت بہت ہے۔ عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ کی متفق علیہ احادیث جن میں سجدہ میں رفع یدین کی نفی ہے۔ اس کے شواہد ہیں۔ پھر ’’شرح نخبہ‘‘ میں صحت کے چند درجے مقرر کیے ہیں: اول نمبر: بخاری، مسلم کی روایات۔ پھر صرف بخاری کی۔ پھر صرف مسلم کی۔ پھر جو’’بخاری و مسلم‘‘ کی شرط پر ہوں۔ پھر جو صرف بخاری کی شرط پر ہوں۔ پھر جو مسلم کی شرط پر ہوں اور اس روایت کو مسلم نے بھی روایت کیا ہے، لیکن اس میں سجدہ میں رفع یدین نہیں۔ پس اس جہت سے بھی اس روایت کو تقویت ہو گئی۔ پھر عبد الجبار بن وائل کے استاد میں اختلاف ہے۔ عبید اﷲ بن عمر بن مسیرہ جو اعلیٰ درجہ کے ثقہ ہیں، جن کی بابت تقریب میں ’’ثقہ ثبت‘‘ لکھا ہے۔ یہ عبد الوارث سے وائل بن علقمہ نقل کرتے ہیں اور ابو خیثمہ زہیر بن حرب بھی اس اعلیٰ درجہ کے ثقہ ہیں۔ وہ بھی عبد الوارث سے بواسطہ عبد الصمد بن عبد الوارث،وائل بن علقمہ ہی نقل کرتے ہیں اور ابراہیم بن الحجاح سامی جس کو تقریب میں’’ثقہ یَھِمُ قلیلاً‘‘ کہا ہے۔یعنی ثقہ ہے، کچھ وہم کرتا ہے ۔اور عمران بن موسیٰ، ابو عمرو البصری جس کو تقریب میں ’’صدوق‘‘ کہا ہے۔ یہ دونوں عبد الوارث سے علقمہ بن وائل نقل کرتے ہیں اور صحیح یہی ہے۔ چنانچہ ’’تہذیب‘‘ میں اور ’’تقریب‘‘ میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی تصریح کی ہے۔ اب دیکھیے عبید اﷲ اور ابو خیثمہ اعلیٰ درجہ کے ثقہ ہیں۔دونوں کی بابت ’’تقریب‘‘ میں ’’ثقہ ثبت‘‘ لکھا ہے اور ابراہیم اور عمران یہ ان کی نسبت بہت ہلکے درجہ کے ہیں، کیونکہ دوسرے کو تو صرف سچا کہا ہے، اس کے حافظہ وغیرہ کی تعریف نہیں کی اور پہلے کے لیے جامع لفظ بولا ہے، جو حافظہ وغیرہ کو بھی شامل ہے، لیکن ساتھ یہ بھی
[1] اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہاں دونوں طرف اگرچہ ہمیشگی اور استمرار کے صیغہ ہیں، لیکن موافقت کے لیے تاویل کا کوئی حرج نہیں۔ وہ یوں کہ جب چند دن ایک شخص نے ایک حالت دیکھی، تو یہ خیال کرکے کہ باقی دنوں میں بھی اسی طرح کرتے ہوں گے۔ استمرار کا صیغہ استعمال کردیا کیونکہ اصل یہ ہے کہ حکم قائم رہے اور اس کا بدلنا ایک موہوم شے ہے۔ پس یہ تیسرا اعتراض ٹھیک نہیں۔ ہاں پہلے دو اعتراض ٹھیک ہیں۔ ایک یہ کہ جب مستقل رفع یدین کا ثبوت ہی مشکوک ہے تو پھر اس موافقت کی ضرورت کیا؟ دوسرا یہ کہ اس سے لازم آتا ہے کہ رکوع کے رفع یدین کا ترک ناجائز ہو۔ فافھم!)