کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 457
یُعتَقَدَ عِندَ العَمَلِ بِہٖ ثُبُوتُہُ لِئَلَّا یُنسَبَ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مَا لَم یَقُلہ ))
’’ہم نے اپنے استاذ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے کئی بار سنا، اور انھوں نے مجھے اپنے ہاتھ سے لکھ کر دیا، کہ ضعیف حدیث پر عمل کے لیے تین شرطیں ہیں۔ پہلی جس پر اتفاق ہے، یہ ہے کہ ضعف شدید نہ ہو ، تاکہ جھوٹوں اور جھوٹ کے ساتھ متہم، اور جن سے روایت ِ حدیث میں بڑی غلطیاں ہوئیں، سے احتراز ہو جائے۔ دوسری یہ ہے، کہ وہ حدیث ایک عام اصل کے تحت ہو، تاکہ جس حدیث کا کوئی اصل صحیح ثابت نہ ہو۔ اس سے بچا جا سکے۔ تیسری شرط یہ ہے، کہ اس حدیث پر عمل کرتے وقت اس کے سنت ہونے کا عقیدہ نہ ہو۔ کیونکہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ بات منسوب ہو جائے گی ،جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی۔‘‘
ان شرائط کی علیحدہ علیحدہ تشریح بھی پیش خدمت ہے۔ پہلی شرط کا معنی یہ ہے، کہ ضعیف حدیث پر عمل کے لیے حدیث کی حالت کی واقفیت ضروری ہے ،تاکہ شدید ضعف سے بچا جا سکے۔ اس شرط کو پیشِ نظر رکھ کر غور فرمائیے! کہ ہمارے ہاں آج وہ لوگ کتنی تعداد میں ہیں، جو احادیث کی صحت کے معیار کو سامنے رکھ کر گفتگو کر سکیں۔[1]
خصوصاً احوالِ رواۃ کے سلسلہ میں جب مختلف ائمہ کی طرف سے جرح و تعدیل کا اختلاف ہوتاہے، تو اس میں ترجیح دینا کتنا مشکل امر ہے۔ کجا یہ کہ راوی کی عدالت اور ضبط کی باریکیوں کو سامنے رکھ کر معیارِ حدیث کے متعلق کوئی پختہ رائے قائم کی جائے۔ ہم یہ نہیں کہتے، کہ یہ کام ناممکن ہے۔ لیکن یہ بات ماننی پڑے گی، کہ اس معیار کا فیصلہ کر سکنے والے بہت کم لوگ ہوں گے۔ نتیجتاً ضُعف شدید اور ضعفِ خفیف کا امتیاز مٹ جائے گا اور بیشتر دفعہ ضعفِ شدید نظر انداز کردیا جائے گا۔
دوسری شرط کا معنی یہ ہے، کہ ضعیف حدیث میں مذکور مسئلہ کا اصل صحیح حدیث سے ثابت ہو۔ مثلاً کوئی عمل اصلاً تو صحیح حدیث سے مشروع ہے۔ لیکن اس پر ثواب کا ذکر ضعیف حدیث میں آیا ہو۔ غور فرمائیے! کہ بات عمل کی ہو رہی تھی اور عمل صحیح حدیث سے مشروع ہے۔ حالانکہ ثواب کا تعلق انسان سے نہیں، وہ اللہ کے
[1] ساتویں صدی ہجری کے امامِ حدیث حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ اس فن میں لوگوں کی کمزوری دیکھ کر تو یہ رائے رکھتے ہیں کہ اب کسی حدیث پر نئے سِرے سے صحت اور ضُعف کی تحقیق مشکل ہے۔ اس لیے ہمیں متقدمین ِ حدیث کی تصحیح و تضعیف پر اکتفاء کرنا چاہیے۔ یہاں سے کسی کو تقلید کا وہم نہ پڑے۔ کیونکہ واقعات کی تحقیق اور ان کی صحت و ضُعف قریبی دور میں ممکن ہوتا ہے۔ لمبا عرصہ گزرنے کے بعد کسی واقعہ کی مستقل برأسہٖ(براہِ راست) تحقیق بڑی مشکل ہوتی ہے۔ نیز تقلید کا تعلق درایت ِفقہی سے ہے روایت سے نہیں ہے۔ جیسا کہ علمائے امت نے وضاحت کی ہے۔