کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 263
تشریف فرما ہو جاتے، تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس وقت آپ کے سامنے کھڑے ہو کر اذان دیتے تھے، مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ منبر کے عین متصل کھڑے ہو کر اذان دیا کرتے تھے جیسا کہ آج کل اکثر دیارِ ہند میں یہ غلط رواج چل نکلا ہے مگر جسے اﷲ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ کیونکہ یہ اذان کی جگہ ہی نہیں۔ ایسا کرنے سے تو اذان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔‘‘[1]
علامہ احمد محمد شاکر مصری رحمہ اللہ :
لکھتے ہیں کہ مؤذنین کو حکم دیا جائے کہ جب خطبہ پڑھنے کے لیے خطیب منبر پر بیٹھ جائے تو مسجد کے دروازہ پر اذان کہا کریں۔[2]
مذکورہ دلائل کی روشنی میں مسجد کے اندر منبر کے عین متصل خطیب کے بالکل قریب کھڑے ہو کر اذان کہنا بہر حال بدعت ہے۔ اذان خواہ پہلی ہو کہ دوسری بہرحال ایسی جگہ پرکہنی چاہیے جہاں سے مؤذن کی اذان زیادہ سے زیادہ انسانوں کو سنائی دے سکے اور یہی سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سنتِ شیخین ہے۔ ہاں اگر لاؤڈاسپیکر میں اذان کہنا ہو تو پھر مسجد کے اندر منبر کے متصل بھی جائز ہے۔ تاہم پھر بھی جہاں تک ممکن ہو ، بہتر یہی ہے کہ مائک کی تار لمبی کرکے باہر صحن مسجد میں اذان کہی جائے اور ایسا کرنا کوئی مشکل بھی نہیں کہ صرف چند گز تار کی مزید ضرورت ہے۔
چند خدشات کی وضاحت:
سوال کاجواب بحمداﷲ تعالیٰ و حسن توفیقہٖ مکمل ہو چکا۔ تاہم تکمیلِ فائدہ کی غرض سے چند ایک خدشات کا جواب ابھی باقی ہے اور وہ خدشات یہ ہیں:
۱۔ اذانِ عثمانی کو خلافِ سنت کہنا صحیح نہیں کیونکہ آپ خلیفہ راشد ہیں ہمیں حکم ہے:
((عَلَیکُم بِسنّتِی وَ سُنَّۃِ الخُلَفَائِ الرَّاشِدِینَ تَمَسَّکُوا بِھَا، وَ عَضُّوا عَلَیھَا بِالنَّوَاجِذِ))
[1] توضیح از صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ....: علماء کی یہ تصریحات اُس دَور کی ہیں جب لاؤڈ اسپیکرایجاد نہیں ہوا تھا بلاشبہ بغیر اسپیکر کے مسجد کے اندر اذان سے اذان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں منارہ پر یا کسی اونچی جگہ پر ہی اذان دینی چاہیے۔ لیکن اسپیکر کی موجودگی میں اسپیکر کی بجائے منارہ پر چڑھنے کو ضروری قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اس طرح اذان کا مقصد زیادہ سے زیادہ دور تک آواز پہنچانا فوت ہو جاتا ہے۔ (ص۔ی)
[2] التعلیق علی الترمذی،بَابُ مَا جَائَ فِی أَذَانِ الجُمُعَۃِ،ج:۲،ص:۳۹۳