کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 261
چھت پر اور دوسری چھت کے نیچے تو یہ نہ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے طرزِ عمل کے موافق ہے اور نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ،حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے طرزِ عمل کے مطابق۔‘‘
محدَّث عصر حاضر علامہ البانی رحمہ اللہ :
تصریح فرماتے ہیں:
((وَالخُلَاصَۃُ أَنَّ الَّذِی ثَبَتَ فِی السُّنَّۃِ، وَ جَرٰی عَلَیہِ السَّلَفُ الصَّالِحُ ، ھُوَ الاِکتِفَائُ بِالأَذَانِ الوَاحِدِ… وَ أَن یَّکُونَ خَارِجَ المَسجِدِ عَلٰی مَکَانٍ مُرتَفِعٍ۔ وَ أَنَّہٗ إِن احتِیجَ إِلٰی أَذَانٍ عُثمَانِیٍّ۔ فَمَحَلُّہٗ خَارِجَ المَسجِدِ، أَیضًا فِی المَکَانِ الَّذِی تَقتَضِیہِ المَصلَحَۃُ وَ یَحصُلُ بِہِ التَّسمِیعُ أَکثَرَ۔ و أَنَّ الأَذَانَ فِی المَسجِدِ بِدعَۃٌ عَلٰی کُلِّ حَالٍ )) [1]
’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالح سے تو بس ایک ہی اذان ثابت ہے اور وہ بھی کسی بلند مقام پر دینی چاہیے۔ اگر کسی مصلحت کے پیشِ نظر اذانِ عثمانی کی ضرورت پڑ ہی جائے، تو پھر مسجد کے باہر کسی ایسے مقام پر دی جائے جہاں اس مصلحت کا تقاضا پورا ہو سکتا ہو اور زیادہ سے زیادہ دُور تک سنائی دے سکے۔ تاہم مسجد میں اذان دینا( جیسا کہ ہمارے ہاں عام رواج چل نکلا ہے) بہرحال بدعت ہے۔[2]
امام مالک کی تصریح :
((نَقَلَ حَافِظُ المَغرِبِ أَبُو عُمَرَ بنُ عَبدِ البَرِّ عَن مَالِکِ بنِ أَنَسٍ الاِمَامِ، أَنَّ الأَذَانَ بَینَ یَدَیِ الاِمَامِ لَیسَ مِنَ الأَمرِ القَدِیمِ)) [3]
یعنی امام مالک بن انس رحمہ اللہ تصریح فرماتے ہیں کہ امام کے نزدیک( مسجد کے اندر )اذان
[1] الاجوبۃ النافعۃ،ص:۳۴
[2] توضیح از صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ.....:اذان کی اصل غرض جب زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اطلاع دینا ہے، تو یہ غرض اگر مسجد کے اندر اذان دینے سے حاصل ہوتی ہو، تو اسے بدعت کیونکر کہا جا سکتا ہے ؟ جیسا کہ آج کل لاؤڈ سپیکر مسجد کے اندر ہی نصب ہوتا ہے، اور اس کے ذریعے سے ہی اذان زیادہ دُور تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ اس لیے مسجد کے اندر اذان دینے کو ہر حال میں بدعت قرار دینا محلِ نظر ہے۔(ص۔ی)]
[3] عون المعبود:۱؍۴۲۴،رقم :۱۰۸۸