کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 252
الاَوَّلُ یَومَ الجُمُعَۃِ بِدعَۃٌ )) [1] ’’ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ جمعہ کی پہلی اذان بدعت ہے۔[2] یہ روایت فتح الباری(۲؍۳۲۷) میں بھی موجود ہے۔ ’’جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ پڑھنے کے لیے منبر پر تشریف فرما ہو جاتے تھے تو پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان پڑھتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوجاتے تو حضر ت بلال تکبیر کہتے اور پہلی اذان (اذانِ عثمانی) مسنون نہیں۔‘‘ امام حسن بصری رحمہ اللہ تابعی کی رائے: ((َدَّثَنَا أَبُو بَکرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ھُثَیمُ بنُ بَشِیرٍ ، عَنِ الحَسَنِ ، أَنَّہٗ قَالَ : النِّدَآئُ الاَوَّلُ یَومَ الجُمُعَۃِ الَّذِی یَکُونُ عِندَ خُرُوجِ الاِمَامِ وَالَّذِی قَبلَ ذَالِکَ بِدعَۃٌ مُحدَثٌ)) [3] ’’امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ درحقیقت جمعہ کی پہلی اذان وہ ہے جو خطبہ کے شروع میں اس وقت کہی جاتی ہے جب خطیب خطبہ کے لیے آجاتا ہے اور جو اذان اس خطبہ والی اذان سے پہلے کہی جاتی ہے وہ ایک نئی چیز ہے۔‘‘ امام زہری تابعی رحمہ اللہ کی رائے: ((حَدَّثَنَا ابنُ عُلَیَّۃَ، عَن بُردٍ، عَن الزُّھرِیِّ، قَالَ: کَانَ الأَذَانُ عِندَ خُرُوجِ الاِمَامِ، فَاَحدَثَ اَمِیرُ المُومِنِینَ عثُماَنُ التَّاذِینَۃَ الثَّالِثَۃَ عَلَی الزَّورَائِ، لِیَجتَمِعَ النَّاسُ)) [4] ’’امام زہری رحمہ اللہ تصریح فرماتے ہیں کہ پہلے پہل جمعہ کی پہلی اذان خطبہ کے شروع میں کہی جاتی تھی، جب خطیب خطبہ پڑھنے کے لیے آجاتا تھا۔ بعد ازاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کرنے کے لیے مقام ’’زوراء‘‘ پر تیسری اذان(مروّجہ پہلی اذان) شروع کردی۔‘‘
[1] مصنف ابن أبی شیبۃ، باب الأذان یوم الجمعۃ: ۲؍۱۴۰،رقم:۵۴۳۷ [2] وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ ابنُ عُمَرَ : اِنَّمَا کَانَ النَّبِیُّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إِذَا صَعِدَ المِنبَرَ أَذَّنَ بِلَالٌ۔ فَاِذَا فَرَغَ النَّبِیُّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مِن خُطبَتِہٖ، أَقَامَ الصَّلٰوۃَ۔ وَ الأَذَانُ الاَوَّلُ بِدعَۃٌ ‘ رَوَاَہُ أَبُو ظَاھِر المُخلِصُ فِی فوائدہٖ کذا فی الاجوبۃ النافعۃ للشیخ ناصر الدین الالبانی ؒ، ص:(۹، ۱۰) [3] مصنف ابن أبی شیبۃ (۲؍۱۴۰)، باب الاذان یوم الجمعۃ،رقم:۵۴۳۵ [4] مصنف ابن أبی شیبۃ ،باب الاذان یوم الجمعۃ،رقم:۵۴۴۰