کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) - صفحہ 244
((اَلَّذِی یَظھَرُ أَنَّ النَّاسَ أَخَذُوا بِفِعلِ عُثمَانَ فِی جَمِیعِ البِلَادِ۔ اِذ ذَاکَ لِکَونِہٖ خَلِیفَۃَ مُطَاعِ الأَمرِ)) (۲؍۳۹۴)
’’ظاہر یہی ہے کہ یہ اذان سب شہروں میں جاری ہو گئی، کیونکہ وہ قابلِ اطاعت خلیفہ تھے۔‘‘
استاذی المکرم محدث روپڑی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اگرچہ ابتداء اس کی لوگوں کی کثرت کی وجہ سے تھی ۔ مگر سب شہروں میں اس کا پھیلنا دلالت کرتا ہے کہ آخر لوگوں کی کمی بیشی ضروری نہیں سمجھی گئی۔ پس ثابت ہوا کہ اب بھی یہ اذان درست ہے۔ خواہ کم ہوں یا زیادہ۔ ہاں ضروری نہیں۔ اگر کوئی نہ دینی چاہے نہ دے۔ مگر دینے والے پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔ بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ بلند جگہ بازار میں دینی چاہیے، کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسی جگہ میں ہی دی تھی۔ تو یہ ٹھیک نہیں۔ اذان سے مقصود إعلام ہے، یعنی لوگوں کو بذریعہ توحید اعلان ہے۔ اس میں بازار یا کسی جگہ کی خصوصیت کو کوئی دخل نہیں۔ مدینہ شریف میں بازار مسجد کے ساتھ تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے موزوں جگہ پر دلوادی۔ اس طرح ہر شہر کی جامع مسجد میں موزوں جگہ دیکھ لینی چاہیے۔ (فتاویٰ اہلِ حدیث:۲؍۱۰۶)
بہرصورت مذکورہ بالا مُستندات کی روشنی میں جمعہ کی پہلی اذان دینے کا جواز ہے۔(واللہ اعلم) [1]
تعاقب۔جمعہ کی پہلی اذان کا شرعی حکم (از۔ مولانا عبید اﷲ عفیف ، شیخ الحدیث مسجد چینیانوالی۔لاہور)
سوال: زید اس بات کا قائل و فاعل ہے کہ جمعۃ المبارک کی ایک اذان سنتِ نبوی ، سنتِ صحابہ( رضی اللہ عنہم) اور
[1] ادارہ الاعتصام: جمعہ کی پہلی اذان، جو اذانِ عثمانی کہلاتی ہے ،اس کی بابت اگرچہ حضرت مفتی صاحب حفظہ اللہ نے صرف جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ اسے ضروری نہیں بتلایا ہے۔تاہم ہمارے خیال میں مطلقاً جواز کا فتویٰ بھی محلّ نظر ہے۔ اس کا جواز صرف ایسی جگہوں پر ہی تسلیم کیا جانا چاہیے جہاں اس کی ضرورت مقتضی ہو۔ آج کل لاؤڈ اسپیکر اور گھڑیاں عام ہیں، جن کی وجہ سے اس طرح کے إعلام(خبر دینے)کی بالعموم ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دَور میں تھی۔ البتہ جہاں آج بھی گھڑیاں اور لاؤڈ اسپیکر وغیرہ نہ ہوں تو وہاں بلاشبہ اذانِ اوّل کا جواز موجود ہے۔ لیکن جہاں ایسی صورت نہیں ہے (جیسا کہ آج کل بالعموم نہیں ہے) تو وہاں جمعہ کی پہلی اذان (اذانِ عثمانی) سے اجتناب ہی کرنا چاہیے اور صرف وہی ایک اذان دینی چاہیے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔
اس موضوع پر ہمارے فاضل بزرگ و محقق مولانا عبید اﷲ صاحب عفیف حفظہ اللہ کا ایک مُفَصَّل اور مُدَلَّل مضمون ہمارے پاس کافی عرصے سے اشاعت کے لیے آیا ہوا ہے جس میں اسی نقطہ نظر کی تائید و حمایت کی گئی ہے، جو ہم نے مذکورہ بالا سطور میں پیش کیا ہے۔(ان شاء اﷲ) آئندہ شمارے سے بالأقساط قارئین کرام وہ ملاحظہ فرمائیں گے! (صلاح الدین یوسف)