کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 98
قائم ہے۔ اب اس کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔ جناب غامدی صاحب سورت نساء کی آیت میں بیان کردہ عبوری سزائے زنا اور پھر حدیث: (( خُذُوْا عَنِّيْ... )) میں بیان کردہ مستقل سزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ان ہدایات سے واضح ہے کہ ان کا تعلق عبوری دور سے تھا۔ چناں چہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زیرِ بحث روایت (( خُذُوْا عَنِّيْ... )) کا مدعا در حقیقت یہی ہے کہ بعد میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحیِ خفی کے ذریعے سے ہدایت کی گئی کہ یہ چونکہ زنا ہی کے مجرم نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ اپنی آوارہ منشی، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی وجہ سے فساد فی الاض کے مجرم بھی ہیں، اس لیے ان میں سے ایسے مجرموں کو جو اپنے حالات کی نوعیت کے لحاظ سے رعایت کے مستحق ہیں، زنا کے جرم میں نور کی آیت ۲ کے تحت سو کوڑے اور معاشرے کو ان کے شر و فساد سے بچانے کے لیے ان کی اوباشی کی پاداش میں مائدہ کی آیت کے تحت نفی، یعنی جلا وطنی کی سزا دی جائے اور ان میں وہ مجرم جنھیں کوئی رعایت دینا ممکن نہیں ہے، مائدہ کی اسی آیت کے تحت رجم کر دیے جائیں۔‘‘[1] غامدی صاحب کی یہ سخن سازی ہم پہلے بھی ان کی کتاب ’’میزان‘‘ کے حوالے سے نقل کر آئے ہیں، جس کا حوالہ وہ ہر اہم مبحث میں دیتے ہیں۔ یہاں ان کا یہ موقف ان کی دوسری کتاب ’’برہان‘‘ سے نقل کیا گیا ہے، جو بعینہٖ وہی ہے جو پہلے بیان ہوا، لیکن اسے دوبارہ نقل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ وہ ہر جگہ [1] برہان (ص: ۱۲۶)