کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 92
ہے، اس لیے کہ ہذیان گوئی تو بے ارادہ ہوتی ہے اور افترا تو وہ ہے جو عمداً ہو، اس لیے اسّی کوڑوں کے لیے یہ معقول دلیل نہیں ہے۔[1] آپ سر سید سے لے کر غلام احمد پریز تک دیکھ لیجیے، ان کے افکار و نظریات اور ان کے لٹریچر میں یہ تینوں باتیں نمایاں طور پر ملیں گی اور ہمیں یہ کہتے ہوئے نہایت دُکھ اور افسوس ہو رہا ہے کہ فراہی گروہ کے اکابر و اصاغر، سب کا رویہ بھی حدیث کے بارے میں بالکل یہی ہے، سرِ مو فرق نہیں ہے۔ ائمۂ سلف کا رویہ حدیث کے بارے میں کیا رہا ہے اور اب بھی ان کے پیروکار اہلِ اسلام کا رویہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے کوئی نظریہ گھڑ کر ’’دلائل‘‘ تلاش نہیں کرتے، بلکہ قرآن کریم اور اس کی قولی و عملی تفسیر، حدیثِ نبوی، سے جو کچھ ملتا، ثابت ہوتا ہے، اس کو وہ حرزِجان اور آویزۂ گوش بنا لیتے ہیں اور اس پر عمل کو دین و دنیا کی سعادت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر ان کا عقیدہ ہے کہ اﷲ نے قرآن کی حفاظت فرمائی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اس قرآن کے اجمال کی تفصیل اور اس کے عموم کی تخصیص کرنے والی احادیث کو بھی محفوظ کر دیا ہے، کیوں کہ اس کے بغیر قرآن کی حفاظت کا مقصد ہی پورا نہیں ہوتا، جب اس کا سمجھنا ہی مشکل، بلکہ ناممکن ہوتا تو اس کو محفوظ کر دینے سے کیا ہوتا؟ اس کی محفوظیت کا فائدہ تو تب ہی ہے، جب اس کی وہ تبیین بھی محفوظ ہوتی، جس کو حدیث کہا جاتا ہے۔ اس لیے اہلِ اسلام کا بجا طور پر یہ عقیدہ ہے کہ حدیثِ رسول بھی الحمدﷲ اسی طرح محفوظ ہے، جیسے قرآنِ کریم محفوظ ہے۔ تیسرے، حدیثِ رسول کے محفوظ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جن محدثین [1] سبل السلام (۴/ ۳۰)