کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 90
اور یہ مجھے زیادہ محبوب ہیں۔[1] ان دونوں روایتوں میں صراحت ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق نے شراب نوش پر جو حد جاری کی، وہ چالیس کوڑے تھی۔ تاہم عہدِ رسالت کے بعض واقعات میں صرف زد و کوب کرنے کا بھی ذکر ہے، کوڑے مارنے کا نہیں۔ اس کی بابت علما نے وضاحت کی ہے کہ یہ واقعات اس کی حد مقرر کرنے سے پہلے کے ہیں، لیکن بعد میں مذکورہ حد مقرر کر دی گئی، جس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی عمل کیا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چالیس کے بجائے اسّی کر دیے، اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ انھوں نے اس کو حد نہیں سمجھا، بلکہ اس اضافے کی وجہ بھی خود غامدی صاحب کے نقل کردہ اقتباس میں موجود ہے کہ ان کے دور میں اس سزا کو ناکافی سمجھتے ہوئے شراب نوشی میں اضافہ ہوگیا تھا، جس کے سدّ باب کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سزا کو دوگنا کر دیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ چالیس تو حد شرعی ہے اور مزید چالیس یہ بطورِ تعزیر ہے، تاکہ لوگ اس جرم سے باز رہیں۔ علاوہ ازیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس اِقدام پر کسی صحابی نے بھی نکیر نہیں کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی اسے سنت ہی سے تعبیر کیا، کیوں کہ یہ اضافہ ایک خلیفہ راشد نے کیا تھا اور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ )) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اضافہ بھی سنت ہی کہلائے گا۔ اُن کے اس اقدام کی وجہ سے شراب نوشی کی حد، حد نہیں رہے گی، بلکہ تعزیر بن جائے گی، ایسا سمجھنا یا باور کرانا یکسر غلط ہے۔ تاہم دونوں صورتیں سنت ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ اصل حد چالیس کوڑے ہی ہے اور اگر تادیب و تنبیہ کے طور پر اس میں اضافے [1] صحیح مسلم، کتاب الحدود، رقم الحدیث (۱۷۰۷)