کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 85
قرآن مجید میں یقینا آیتِ محاربہ موجود ہے اور اس کے مرتکبین کو جمع کے صیغے کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس میں ایسے منظم جتھے یا ٹولے کا ذکر ہے جو اسلامی حکومت کے خلاف باغیانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو یا لوگوں کے جان و مال کے لوٹنے اور قتل و غارت گری کے مرتکب ہوں، ان کے لیے یہ چار سزائیں بیان کی گئی ہیں کہ خلیفۂ وقت اس ٹولے کے جرائم کے مطابق ان میں سے کوئی بھی ایک سزا ان کو دے سکتا ہے۔ لیکن فراہی گروہ سے پہلے کسی مفسر، کسی فقیہ، کسی امام اور عالم نے اس محاربہ کے مرتکبین میں زنا کے مرتکبین کو شامل نہیں کیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ زنا کاری تو ایک خفیہ کارروائی ہے، اس سے فساد فی الارض کس طرح برپا ہوگا؟ فساد فی الارض تو ایسے منظم جتھے سے پھیلتا ہے، جس کے پاس کچھ قوت و طاقت ہو جس کی وجہ سے وہ حکومت کے لیے یا عوام کے جان و مال کے لیے چیلنج بن جائے۔ ہمارے ملک میں قحبہ خانے کھلے ہوئے ہیں، وہاں پیشہ ور عورتیں بدکاری کرواتی ہیں۔ مرد بھی وہاں جاکر اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو نہ اوباش اور آوارہ منش کہا جاتا ہے اور نہ ان سے زمین میں فساد پھیلتا ہے، پھر ان کو محاربین قرار دے کر کس طرح ان پر محاربہ کی سزا نافذ کی جا سکتی ہے؟ خیال رہے قحبہ عورتیں غارت گرِ دین و ایمان یقینا ہیں، راہزنِ تمکین و ہوش بھی ہیں۔ علاوہ ازیں اﷲ کی نافرمانی کی وجہ سے ان کا عملِ بدکاری زمین میں فساد اور بگاڑ کا بھی یقینا باعث ہے، جس کی اجازت ایک اسلامی ملک میں نہیں دی جا سکتی، لیکن محاربین کا فساد فی الارض اور نوعیت کا ہے، اس سے ملک میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پید اہوجاتا ہے، راستے پُرخطر ہوجاتے ہیں، حکومت کمزور ہو تو ملک کی سالمیت و بقا بھی داؤ پر لگ جاتی ہے، اسی لیے اس جرم کی سخت سزا مقرر