کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 82
عجیب و غریب تضاد یا منصبِ رسالت کے ساتھ مذاق: ہم یہ باتیں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے ہیں، الفاظ ضرور ہمارے ہیں، لیکن غامدی صاحب نے جو خامہ فرسائی کی ہے اور جو لالہ و گل بکھیرے ہیں، ان کا خلاصہ یہی ہے۔ ان کے اپنے الفاظ ملاحظہ فرمائیے! ’’سورۂ مائدہ کی آیات (۳۳۔ ۳۴) میں اﷲ تعالیٰ نے فساد فی الارض کے مجرموں کی یہ سزا بیان کی ہے کہ انھیں بدترین طریقے سے قتل بھی کیا جا سکتا ہے، سولی بھی دی جا سکتی ہے، ان کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹے بھی جا سکتے ہیں اور انھیں جلا وطن بھی کیا جا سکتا ہے۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کا اطلاق اپنے زمانے کی عورتوں پر کیا اور فرمایا: ’’مجھ سے لو، مجھ سے لو، مجھ سے لو، اﷲ نے ان عورتوں کے لیے راہ نکال دی ہے۔ اس طرح کے مجرموں میں کنوارے کنواریوں کے ساتھ ہوں گے اور انھیں سو کوڑے اور جلا وطنی کی سزا دی جائے گی۔ اسی طرح شادی شدہ مرد و عورت بھی سزا کے لحاظ سے ساتھ ساتھ ہوں گے اور انھیں سو کوڑے اور سنگ ساری کی سزا دی جائے گی۔‘‘[1] ’’آپ کا منشا یہ تھا کہ یہ عورتیں چونکہ محض زنا ہی کی مجرم نہیں ہیں، بلکہ اس کے ساتھ آوارہ منشی اور جنسی بے راہ روی کو اپنا معمول بنا لینے کی وجہ سے فساد فی الارض کی مجرم بھی ہیں، اس لیے ان میں سے جو اپنے حالات کے لحاظ سے نرمی کی مستحق ہیں، انھیں زنا کے جرم میں سورۂ نور کی آیت ۲ کے تحت سو کوڑے اور معاشرے کو ان [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۴۱۴)