کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 76
ایسے ہی مفکرین کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎ ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ ایک وہ ہیں جنھیں تصویر بنا آتی ہے ایک اور طریقے سے بہ لطائف الحیل حدیث کا انکار: اس سے اگلا پیرا ملاحظہ فرمائیں، اس میں بھی بہ لطائف الحیل احادیث کا انکار ہے: ’’اس (قرآن) کے الفاظ کی دلالت اس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہے۔ یہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے، پوری قطعیت کے ساتھ کہتا ہے اور کسی معاملے میں بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے قاصر نہیں رہتا۔ اس کا مفہوم وہی ہے، جو اس کے الفاظ قبول کر لیتے ہیں، وہ نہ ان سے مختلف ہے نہ متباین۔ اس کے شہرستانِ معانی تک پہنچنے کا ایک ہی دروازہ ہے اور وہ اس کے الفاظ ہیں، وہ اپنا مفہوم پوری قطعیت کے ساتھ واضح کرتے ہیں، اس میں کسی ریب و گمان کے لیے ہر گز کوئی گنجایش نہیں ہوتی۔‘‘[1] اس ساری دراز نفسی اور الفاظ کی میناکاری کا مقصد بھی حدیثِ رسول سے قرآن کے عموم کی تخصیص کا حق سلب کرنا ہے، کیوں کہ اس گروہ کے نزدیک نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رجم کا حکم قرآن کے خلاف ہے۔ اگر موصوف یہ بات سیدھے سادے الفاظ میں کہتے تو اس کی پذیرائی نہ ہوتی، اس لیے موصوف نے ایک ماہر فن کار کی طرح نہایت چابک دستی سے حدِ رجم کے انکار کے لیے الفاظ کے طوطا مینا اس طرح اُڑائے ہیں کہ ایک عام آدمی عبارت آرائی کے حسن اور الفاظ کی جادوگری سے مسحور ہوجائے اور اس کے پسِ پردہ شعبدہ بازی تک اس [1] میزان (ص: ۲۵)