کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 75
کام ہوتے چلے آرہے ہیں، پھر رسول کے ان فرامین کو، جو قرآن کی تفصیلات پر مبنی تھے اور جن کو احادیث کہا جاتا ہے، مدوّن کر کے محفوظ بھی کر لیا گیا، تاکہ مرورِ ایام اور لیل و نہار کی گردشوں سے اصل احکام میں کوئی تغیر رونما نہ ہو، جیسا کہ گذشتہ انبیا کی تعلیمات کے ساتھ ہوتا آیا ہے، تو اصل ریکارڈ دیکھ کر مصلحینِ امت اصلاح کا کام کرتے رہیں، اسی کو ایک حدیث میں تجدیدِ دین سے تعبیر کیا گیا ہے: (( إِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْأُمَّۃِ عَلٰی رَأْسِ کُلِّ مِئَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا )) [1] ’’اﷲ تعالیٰ ہر صدی کے شروع میں اس امت کے لیے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا، جو اس کے دین کی تجدید کریں گے۔‘‘ یہ اُمتِ مسلمہ کا خاص شرف و امتیاز ہے کہ محدثین کی بے مثال کاوشوں سے اس کا وہ دین قیامت تک کے لیے محفوظ ہوگیا ہے جو احادیث کی شکل میں اور قرآن کی تشریح و توضیح پر مشتمل ہے، ورنہ پچھلے انبیا کی تعلیمات یا تو دست بردِ زمانہ کی نذر ہوگئیں یا پھر تحریف اور ردّ و بدل کا شکار۔ لیکن آخری پیغمبر کی تعلیمات بھی محفوظ ہیں اور اس پر نازل کردہ قرآن کریم بھی۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ اس محفوظ ذخیرۂ حدیث کی بابت یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اول تو اس کی محفوظیت کا دعویٰ ہی مشکوک ہے اور اگر ان میں کچھ حصہ محفوظ بھی ہے تو وہ دفترِ بے معنی ہے، کیوں کہ اس سے کسی عقیدہ و عمل یا ایمانیات کا اضافہ نہیں ہوتا۔ ؎ تفو بر تو اے چرخِ گرداں تفو [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۳۸) السلسلۃ الصحیحۃ، رقم الحدیث (۵۹۹)