کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 70
سے جو کہتے ہیں، وہ ان کے دل میں نہیں ہوتا اور جو دل میں ہوتا ہے، اس کا اظہار وہ بوجوہ زبان سے نہیں کرتے۔ تاہم ان کا رویہ ان کے دلوں کی کیفیت کی غمازی کرتا ہے۔ یہ دعوائے غیب دانی نہیں، نہ اس کے لیے علمِ نجوم میں کسی مہارت کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں کے رویوں سے ان کے نہاں خانۂ دل کی کثافتیں چھن چھن کر باہر آرہی ہوتی ہیں، جو ان کے مخفی عزائم کو آشکارا اور اہلِ دانش و بینش پر ان کی اصل حقیقت کو واضح کر دیتی ہیں۔ بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش من اندازِ قدت را می شناسم احادیث کی حجیت کا واشگاف الفاظ میں انکار: اپنی مزعومہ سنتوں کے بیان کے بعد غامدی صاحب واشگاف الفاظ میں، لگی لپٹی رکھے بغیر، فرماتے ہیں: ’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کے اخبارِ آحاد جنھیں بالعموم ’’حدیث‘‘ کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ کبھی درجۂ یقین کو نہیں پہنچتا، اس لیے دین میں ان سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں ان میں آتی ہیں، وہ درحقیقت قرآن و سنت میں محصور اسی دین کی تفہیم و تبیین اور اسی پر عمل کے لیے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہے۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے۔ چناں چہ دین کی حیثیت سے اس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہوسکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اُسے قبول کیا جا سکتا ہے۔‘‘[1] [1] میزان (ص: ۱۵)