کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 66
سے کرنا چاہیے، قربانی اور تدفین وغیرہ کا ذکر تو حضرت آدم سے بھی ملتا ہے۔ پھر ان احکام کو دینِ ابراہیمی کی روایات کیوں کر کہا جا سکتا ہے؟ ان سب سوالات کا جواب غامدی صاحب کے ذمے ہے۔ غامدی صاحب کی مزید وضاحت اور ہمارے مزید سوالات: مذکورہ فہرستِ سنن کے بعد غامدی صاحب فرماتے ہیں: ’’سنت یہی ہے اور اس کے بارے میں یہ بالکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے، وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے، یہ اسی طرح ان کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآن ہی کی طرح ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت قرار پائی ہے، لہٰذا اس کے بارے میں اب کسی بحث و نزاع کے لیے گنجایش نہیں ہے۔ دین لاریب، انھی دو صورتوں میں ہے، ان کے علاوہ کوئی چیز دین ہے نہ اسے دین قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘[1] غامدی صاحب سے ہمارا سوال ہے کہ سنت کی یہ تعریف اور اس کی یہ تحدید ائمہ سلف میں سے کس نے کی ہے؟ کیوں کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ ائمہ سلف میں اور آپ کے درمیان بال برابر بھی فرق نہیں ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ سنتیں قرآن کی طرح عملی تواتر سے ملی ہیں تو پھر ان میں باہم اختلاف کیوں ہے؟ صرف نماز کا اختلاف ہی دیکھ لیجیے! ہاتھ باندھنے کی صورت میں: سینے پر باندھے جائیں یا ناف کے نیچے، یا ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھی جائے؟ رفع الیدین کیا جائے یا نہ کیا جائے؟ اعتدالِ ارکان ضروری [1] میزان (ص: ۱۴۔ ۱۵)