کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 63
قرآن کے اجمالات کی شرح و توضیح کرتی ہیں، اسی طرح قرآن کے عمومات کی تخصیص بھی کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں لغت یا عرب شعرا کے کلام سے حسبِ ضرورت استفادہ و استشہاد تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے قرآن فہمی میں اصل اہمیت اور اصل بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ اصل بنیاد تو صحیح احادیث، آثارِ صحابہ اور سلف کی تعبیر ہے۔ جو تفسیر اس طریقۂ ماثور سے ہٹ کر ہوگی، وہ قرآن کی تفسیر نہیں، قرآن کے نام پر اسی طرح گمراہی ہے، جیسے: سر سید کی تفسیر یا پرویز کی تفسیر گمراہیوں کا مجموعہ ہے۔ اور ’’تدبرِ قرآن‘‘ بھی اسی سلسلۃ الضلال کی ایک کڑی ہے اور رجم کا بطورِ حد انکار ام الضلال ہے، جو ’’تدبرِ قرآن‘‘ میں بڑے شدّ و مد سے کیا گیا ہے۔ جب کہ غامدی صاحب کی اصطلاح میں سنت و حدیث کا مفہوم مذکورہ مفہوم سے یکسر مختلف ہے۔ ان کے نزدیک حدیث، اول تو معتبر ذرائع سے ثابت نہیں، اگر کوئی ثابت ہوجائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، اس سے کوئی عقیدہ و عمل ثابت نہیں ہوتا۔ اسی طرح سنت ہے، وہ بھی ان کے نزدیک تعداد میں چند ہی ہیں، اس لیے کہ سنت سے مراد نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں ہے، جو سات، آٹھ ہزار کی تعداد میں صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہیں اور ایک معقول تعداد سننِ اربعہ اور دیگر بعض کتبِ حدیث میں ہے۔ ائمہ سلف اور محدثین کے نزدیک ان میں موجود تمام صحیح احادیث دین ہیں اور ان سے ثابت شدہ احکام اسی طرح قابلِ عمل ہیں، جس طرح قرآنی احکام ہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک سنت ’’دینِ ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید و اصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔‘‘ (میزان، ص: ۱۴) سنت کی یہ تعریف ائمہ سلف کی تعریف سے یکسر مختلف اور نہایت مبہم ہے۔