کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 58
۵۔ علاوہ ازیں یہ گروہ ’’سنت، سنت‘‘ کی بڑی رٹ لگاتا ہے، جس سے اس کا مقصود یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ حدیث گو ان کے نزدیک غیر معتبر ہے، لیکن سنت کی ان کے ہاں بڑی اہمیت ہے، لیکن اول تو حدیث و سنت میں یہ فرق ہی خانہ ساز ہے، کسی امام، محدث یا فقیہ نے ایسا نہیں کہا ہے۔ ان کے نزدیک حدیث اور سنت مترادف اور ہم معنی ہے، جو چیز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، عمل اور تقریر سے ثابت ہے، وہ دین میں حجتِ قاطع ہے، اسے حدیث کہہ لیں یا سنت، یہ ایک ہی بات اور ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ پیغمبر کی راہنمائی اور عمل، سنت ہے نہ کوئی قابلِ عمل چیز ۔۔۔، غامدی ذہن کی فلسفیانہ اُبکائی: لیکن یہ گروہ بظاہر ’’سنت‘‘ کی ’’اہمیت‘‘ کا قائل ہے، لیکن سنت کے بارے میں بھی ذرا ان کا موقف ملاحظہ ہو: ’’دوسرا اصول یہ ہے کہ سنت کا تعلق تمام تر عملی زندگی سے ہے، یعنی وہ چیزیں جو کرنے کی ہیں۔ علم و عقیدہ، تاریخ، شانِ نزول اور اس طرح کی دوسری چیزوں کا سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سنت کا لفظ ہی اس سے ابا کرتا ہے کہ ایمانیات کی قسم کی کسی چیز پر اس کا اطلاق کیا جائے۔ لہٰذا علمی نوعیت کی کوئی چیز بھی سنت نہیں ہے، اس کا دائرہ کرنے کے کام ہیں، اس دائرے سے باہر کی چیزیں اس میں کسی طرح شامل نہیں کی جا سکتیں۔‘‘[1] آگے سنیے! آگے چل کر سنت کا تعلق، عملی زندگی سے بھی ختم، پہلے اس کا [1] میزان (ص: ۵۸)