کتاب: فتنۂ غامدیت، ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ - صفحہ 57
کیے جا سکتے ہیں، لیکن مسئلہ تو ائمہ سلف کا ہے، جو لفظ غامدی صاحب نے استعمال کیا ہے۔ ائمہ سلف میں کس نے حدیث کی بابت یہ خامہ فرسائی کی ہے، جس سے دین میں حدیث کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی؟ ظاہر بات ہے جب حدیث سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ نہیں ہوتا اور وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ نہیں بن سکتی تو پھر حدیثِ رسول کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے؟ ۴۔ علاوہ ازیں ’’نئے حکم‘‘ کا کیا مطلب؟ یہ ان کے اسی گمراہ کن نظریے کا غماز ہے کہ حدیثِ رسول سے قرآن کے عموم کی تخصیص نہیں ہوسکتی، جب کہ ائمہ سلف، محدثین، فقہائے اُمت؛ سب حدیثِ رسول کو قرآن کا مخصص، یعنی دینی حکم تسلیم کرتے ہیں، لیکن یہ صاحب اس تخصیص کو قرآن میں تغیر و تبدل سے تعبیر کر کے بظاہر قرآن کی عظمت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن درحقیقت قرآن کے بیان کردہ منصبِ رسالت (مُبَیِّن) کا انکار کر کے قرآن کا انکار کرتے ہیں۔ ہمارا اس گروہ سے سوال ہے کہ ائمہ سلف نے قرآن کے عموم میں تخصیص کو تخصیص ہی کہا ہے یا بعض نے اس کے لیے نسخ کا لفظ استعمال کیا ہے، لیکن مراد ان کی بھی اس لفظ سے اصطلاحی نسخ نہیں، بلکہ تخصیص ہی ہے، لیکن کیا ائمہ سلف میں سے کسی امام، محدث اور فقیہ نے یہ کہا ہے کہ یہ نیا حکم ہے جو قرآن سے الگ یا زائد علی القرآن یا قرآن میں تغیر و تبدل ہے؟ لیکن غامدی صاحب کے نزدیک یہ تخصیص، قرآن میں تغیر و تبدل ہے، جس کا حق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں ہے۔[1] [1] برہان (ص: ۵۶) طبع پنجم، فروری ۲۰۰۸ء۔